اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر خرم مرزا نے بتایا کہ وہ ریٹینا کے امراض کے ماہر ہونے کے ناطے عمران خان کا ذاتی طور پر معائنہ کرنے اور علاج کے حوالے سے مشورہ دینے کے لیے آئے ہیں، اس وقت ان کے سامنے کیس کی مکمل تفصیلات موجود نہیں ہیں اور یہ بھی واضح نہیں کہ آپریشن کن حالات میں کیا گیا، تاہم ریٹینا کے امراض میں عام طور پر آنکھ کے اندر انجیکشن لگانا ضروری ہوتا ہے۔

انہوں  نے واضح کیا کہ آنکھ کے پردے سے متعلق انجیکشن صرف ہسپتال کے ماحول میں اور آپریشن تھیٹر کے اندر ہی لگائے جا سکتے ہیں، یہ عمل نہ تو عام وارڈ میں ممکن ہوتا ہے اور نہ ہی کسی غیر طبی ماحول میں۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ عمران خان کو انجیکشن لگایا جا چکا ہے، جو علاج کے درست سمت میں جانے کی علامت ہے۔

مزید پڑھیں: عمران خان کو اسپتال لائے اور واپس جیل بھی لے گئے، اس حوالے سے ہمیں کیوں نہیں بتایا گیا؟ اپوزیشن اتحاد

ان کا کہنا تھا کہ ریٹینا کے امراض کا علاج صرف ایک انجیکشن تک محدود نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک مرحلہ وار عمل ہے، جس میں عموماً ایک انجیکشن کے بعد ایک ماہ کے وقفے سے دوسرا اور پھر مزید ایک ماہ بعد تیسرا انجیکشن دیا جاتا ہے۔ بعض کیسز میں انجیکشن کے ساتھ ساتھ لیزر علاج کی بھی ضرورت پیش آ سکتی ہے، جبکہ علاج کا حتمی فیصلہ آنکھ کے مکمل معائنے کے بعد ہی کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر خرم مرزا نے مزید بتایا کہ وہ معائنے کے لیے ضروری آلات کا ایک باکس ساتھ لائے ہیں، تاہم تمام بڑی اور جدید مشینیں ساتھ لانا ممکن نہیں ہوتا کیونکہ وہ صرف ہسپتالوں میں دستیاب ہوتی ہیں اور مریض کو وہاں لے جانا ضروری ہوتا ہے۔ البتہ بنیادی آلات کی مدد سے بیماری کی نوعیت اور شدت کا کافی حد تک اندازہ لگایا جا سکتا ہے، اور اگر اجازت دی گئی تو وہ عمران خان کا باقاعدہ معائنہ ضرور کریں گے۔