کیس کی سماعت جسٹس ارباب محمد طاہر نے کی۔ دورانِ سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ عمران خان کو آنکھوں کے علاج اور طبی معائنے کے لیے نجی اسپتال منتقل کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ بہتر تشخیص اور علاج ممکن ہو سکے۔

سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ ڈاکٹر ندیم قریشی ایک مستند ریٹینا اسپیشلسٹ ہیں اور ان کے ذریعے طبی معائنہ کروایا جا سکتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگر ضروری ہو تو عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال لے جا کر ٹیسٹ کرائے جا سکتے ہیں، تاہم عدالت اس حوالے سے قیام کی مدت یا دیگر انتظامی معاملات پر کوئی حکم جاری نہیں کرے گی۔

جسٹس ارباب محمد طاہر نے سماعت کے دوران یہ بھی استفسار کیا کہ اگر علاج کے دوران کسی بھی قسم کی پیچیدگی پیدا ہوتی ہے تو اس کی ذمہ داری کون لے گا۔ اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل ایاز شوکت نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت اس معاملے میں اپنی ذمہ داری ادا کرے گی۔

دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا جو بعد میں سناتے ہوئے عمران خان کو نجی اسپتال منتقل کرنے کی درخواست مسترد کر دی گئی۔ عدالت نے چیف کمشنر اسلام آباد کو ہدایت دی کہ فوری طور پر ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے۔

مزید پڑھیں: 42 لاکھ شہری جو انتقال کر چکے، مگر ان کے شناختی کارڈ اب تک فعال تھے، نادرا نے ایکشن لے لیا

عدالت کے حکم کے مطابق تشکیل دیے جانے والے میڈیکل بورڈ میں ڈاکٹر عارف اور ڈاکٹر ندیم قریشی سمیت دیگر ماہر ڈاکٹرز شامل ہوں گے جو عمران خان کا طبی معائنہ کریں گے اور یہ فیصلہ کریں گے کہ آیا انہیں اسپتال منتقل کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے مزید ہدایت کی کہ جیل قوانین کے مطابق عمران خان کے اہل خانہ کو ان کی صحت کے حوالے سے مکمل طور پر آگاہ رکھا جائے، جبکہ ڈاکٹر ندیم قریشی کو ہدایت کی گئی کہ وہ اس حوالے سے خاندان کے ساتھ رابطے میں رہیں۔