پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران طلال چوہدری نے دعویٰ کیا کہ دھرنے کے شرکاء کو مختلف اقسام کے پراٹھے فراہم کیے گئے اور علامہ راجہ ناصر عباس اس کی تصدیق کر سکتے ہیں، ورنہ ہمارے پاس تمام شواہد موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دھرنے میں ایسے افراد کو بھی شامل کیا گیا جو پارلیمنٹیرین نہیں تھے، جب کہ مسلح افراد کو پارلیمنٹ لاجز تک پہنچایا گیا جہاں فیملیز موجود تھیں۔ ان اقدامات سے پارلیمنٹ کے تقدس کو پامال کیا گیا۔

وزیر مملکت نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے بعد نئی ایس او پیز اور ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ ہمارا واسطہ انہی بزدلوں سے ہے جو مساجد اور امام بارگاہوں کو نہیں چھوڑتے۔

طلال چوہدری نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کی رپورٹس سپریم کورٹ پہنچ چکی ہیں اور ان کا تفصیلی معائنہ کیا گیا ہے۔ رپورٹس تسلی بخش ہیں اور ان کی نظر جوانوں کی طرح تیز ہے۔ وہ دیکھ اور پڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دھرنے والوں کو بانی پی ٹی آئی کی آنکھ بچ جانے پر مایوسی ہوئی، کیونکہ پی ٹی آئی نہیں چاہتی کہ رپورٹس اچھی آئیں۔ ان کی سیاست نہیں رہی اور وہ چاہتے ہیں کہ کوئی حادثہ ہو جائے۔

وزیر مملکت نے کہا کہ اپوزیشن کا احتجاج ناکام ہو چکا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن لیڈر اور وزیراعلیٰ بھی تبدیل کر کے دیکھ لیا، مگر کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی اور نہ ہی قوم ان کے ساتھ کھڑی ہوئی ہے۔