میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آج پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمنٹیرینز اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کی ایک بڑی بیٹھک منعقد ہوگی، جس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے پروفیسرز ملکی بہتری کے امور پر تفصیلی گفتگو کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ اس اجلاس کے ایجنڈے میں عمران خان کی صحت سے متعلق اہم معاملات پر بھی بحث شامل ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اتحاد کی تاریخ کا اعلان پہلے ہی کیا جا چکا ہے اور پارٹی اپنے مؤقف پر قائم ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آٹھ تاریخ کو ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی اپیل کی گئی ہے، جس میں پورے پاکستان سے عوام کو احتجاج میں شرکت کی درخواست کی گئی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس احتجاج کی کوئی صوبائی تخصیص نہیں، نہ یہ صرف خیبر پختونخوا یا پنجاب تک محدود ہوگا، بلکہ احتجاج پورے ملک میں کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: نوشکی: احمد وال ریلوے اسٹیشن پر کھڑی مال بردار ٹرین پر راکٹ حملہ، انجن تباہ
ان کا کہنا تھا کہ آٹھ فروری کو ہونے والا احتجاج رضاکارانہ ہوگا، کسی پر زور زبردستی نہیں کی جائے گی۔ بیرسٹر گوہر نے آٹھ فروری کو جمہوریت کے لیے ایک بڑا سیاہ دن قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی فیملی پر تنقید کسی صورت قابل قبول نہیں اور یہ پارٹی پالیسی کے سراسر خلاف ہے۔ عمران خان کی بہنوں پر نازیبا جملے کسنے والوں کے لیے پارٹی میں کوئی گنجائش نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی رہنماؤں کو ضبط، برداشت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ کیا جملے کسنے کے لیے خان صاحب کے خاندان کے سوا کوئی اور نہیں ملا؟ اگر آئندہ کسی نے ایسا کیا تو اس کے لیے پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہوگی۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ میں سب سے درخواست کرتا ہوں کہ ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے، اب بس کر دیا جائے۔







