لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ عمران خان سزا یافتہ قیدی ہیں اور انہیں ایک نہیں بلکہ دو مختلف مقدمات میں عدالتوں سے سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا، ’’نہ کوئی ڈیل ہے نہ کوئی ڈھیل، تمام معاملات عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ جب سزائیں عدالتوں نے سنائی ہیں تو ان کے خلاف اپیل کا فورم بھی عدالتیں ہی ہیں، اس لیے سیاسی بنیادوں پر ڈیل کی قیاس آرائیاں درست نہیں۔ ان کے بقول اس صورتحال کو کسی خفیہ سمجھوتے سے جوڑنا حقائق کے منافی ہے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر سینیئر وکیل سلمان صفدر نے گزشتہ ہفتے اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بعد ایک رپورٹ جمع کروائی تھی، جس میں بتایا گیا کہ 73 سالہ سابق وزیراعظم کی دائیں آنکھ کی بینائی مرکزی ریٹینا وین اوکلوژن کے باعث شدید متاثر ہوئی ہے اور متاثرہ آنکھ میں تقریباً 15 فیصد بصارت باقی رہ گئی ہے۔

عمران خان کی صحت سے متعلق خدشات کے باعث ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف سراپا احتجاج ہے، جبکہ اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے دھرنا بھی دیا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں حکومت اور عمران خان کے درمیان ممکنہ ڈیل کی قیاس آرائیاں بھی گردش کر رہی ہیں۔

تاہم عطا تارڑ نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے عمران خان کو علاج کی تمام سہولیات فراہم کیں۔ ان کے مطابق اسلام آباد کے پمز اسپتال میں بھی طبی معائنہ اور سہولت فراہم کی گئی، ماہر ڈاکٹروں نے چیک اپ کیا اور پارٹی رہنماؤں کو باضابطہ بریفنگ دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کسی قیدی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کرتی اور آئین و قانون کے مطابق طبی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

دوسری جانب عمران خان کے بیٹوں قاسم خان اور سلیمان خان نے اپنے والد کی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی حکام سے ملاقات کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ لندن میں مقیم دونوں بیٹوں نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ وہ طبی رپورٹ کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔

حکومت کی جانب سے گزشتہ ہفتے عمران خان کی اپنے بیٹوں سے ٹیلی فون پر بات بھی کروائی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق اس گفتگو کے دوران عمران خان نے اپنی آنکھ کے علاج میں چند ماہ کی تاخیر پر مایوسی کا اظہار کیا۔

واضح رہے کہ عمران خان اگست 2023 سے جیل میں قید ہیں۔ 2022 میں تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے وزارتِ عظمیٰ سے ہٹائے جانے کے بعد ان پر متعدد مقدمات درج ہوئے، جن میں ریاستی تحائف اور نکاح سے متعلق کیسز شامل ہیں۔ بعض مقدمات میں سزائیں معطل یا ختم ہو چکی ہیں جبکہ دیگر اپیلیں مختلف عدالتوں میں زیرِ التوا ہیں۔

عمران خان خود پر عائد تمام الزامات کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے مسترد کرتے رہے ہیں، جبکہ حکومتی مؤقف ہے کہ تمام کارروائیاں قانون کے مطابق ہو رہی ہیں اور فیصلے عدالتیں کر رہی ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں عمران خان کی صحت، اپوزیشن کے احتجاج اور ممکنہ قانونی پیش رفت آئندہ دنوں میں ملکی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے، تاہم حکومت کی جانب سے ڈیل کی خبروں کی واضح تردید کے بعد سیاسی بحث کا رخ ایک بار پھر عدالتی کارروائیوں کی جانب مڑ گیا ہے۔