ایرانی حکام نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ممکنہ حملے کے خدشات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی مسلح افواج ہر طرح کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور کسی بھی قسم کی جارحیت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔
ایرانی حکام کے مطابق خطے میں امریکی فوجی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور ملک کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دشمن کی جانب سے محدود یا سرجیکل حملے کی بھی کوشش کی گئی تو اس کا ایسا جواب دیا جائے گا جو حملہ آور کو یاد رہے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور کسی بھی حملے کی صورت میں پورا خطہ سنگین نتائج کی لپیٹ میں آ سکتا ہے، جس کی ذمہ داری حملہ کرنے والے فریق پر عائد ہوگی۔
ایرانی بیان میں کہا گیا ہے کہ دشمن کی غلط فہمیوں کو دور کرنا ضروری ہے، ایران دفاعی پوزیشن میں ضرور ہے مگر جارحیت کی صورت میں خاموش نہیں رہے گا۔ فوج، فضائیہ اور بحریہ سمیت تمام دفاعی ادارے بدترین صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکا کی بڑی فوجی فورس ایران کے قریب تعینات کی جا رہی ہے اور متعدد جنگی جہاز خطے کی جانب روانہ ہو چکے ہیں۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ یہ اقدام احتیاطی تدبیر کے طور پر کیا جا رہا ہے اور آئندہ صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے میں بے یقینی کی فضا قائم ہو گئی ہے، جبکہ عالمی برادری کی جانب سے فریقین کو تحمل اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔







