خبررساں ادارے العربیہ کے مطابق ان کا یہ رد عمل یوکرین صدر کے اس مطالبے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے امریکا سے ایران پر حملہ کرنے کی اپیل کی تھی۔
وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعہ کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ "ایکس” پر یوکرینی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ولود یمیر زیلنسکی اپنے کرپٹ جرنیلوں کی جیبیں بھرنے اور اس نام نہاد غیر قانونی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکی اور یورپی ٹیکس دہندگان کا پیسہ بہا رہے ہیں جو اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے۔
لیکن دوسری طرف وہ خود اسی چارٹر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران پر امریکی حملے کی ڈھٹائی سے دعوت دے رہے ہیں۔
.@ZelenskyyUa has been rinsing American and European taxpayers to fill the pockets of his corrupt generals and to confront what he calls an unlawful aggression in violation of the UN Charter.
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) January 23, 2026
At the same time, he openly and unashamedly calls for unlawful U.S. aggression against… pic.twitter.com/a8wWmXzWno
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایرانی ایک خودمختار ریاست ہے اور اسے عوام کا دفاع کر نے کے لئے غیر ملکیوں کے آگے گڑگڑانے کی ضرورت نہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ روس کے ساتھ جنگ میں آپ کی فوج کے برعکس جسے غیر ملکی مدد حاصل ہے اور جس میں بڑی تعداد میں کرائے کے فوجی لڑ رہے ہیں، ہم ایرانی جانتے ہیں کہ اپنا دفاع کیسے کرنا ہے اور ہمیں غیر ملکیوں سے مدد مانگنے کی ضرورت نہیں۔






