ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مسلسل سفارتی رابطوں میں مصروف ہے، وزیراعظم شہباز شریف، عسکری قیادت اور اعلیٰ حکام مختلف سطحوں پر فریقین کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے اور بات چیت کی راہ ہموار ہو۔

ترجمان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیاں سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں خطے کی صورتحال اور دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا،حکومت پاکستان مغربی ایشیا میں تنازعات کے پرامن حل کے لیے سنجیدہ سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے افغانستان سے ملحقہ سرحدی علاقوں کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بنوں اور جنوبی وزیرستان سے متصل علاقوں میں افغان فورسز کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ اور شیلنگ کے واقعات پیش آئے، جس سے سویلین آبادی متاثر ہوئی اور کئی افراد زخمی ہوئے،پاکستان متاثرہ شہریوں کے تحفظ اور سرحدی صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔

بھارت سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے ایک بار پھر بھارت پر زور دیا ہے کہ کشمیری حریت رہنماؤں، بشمول شبیر احمد شاہ اور یاسین ملک، کے خلاف قائم مقدمات ختم کیے جائیں کیونکہ یہ مقدمات سیاسی نوعیت کے ہیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔

انہوں نے مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیاں میں جامعہ سراج العلوم کی بندش کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام بھارت کے امتیازی قوانین اور بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کی عکاسی کرتا ہے،تعلیمی اداروں میں مخصوص نظریات کو مسلط کرنا خطے میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے۔

 بھارتی وزیراعظم کے دورہ لداخ پر  تنقید کرتے ہوئےترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ لداخ ایک متنازع علاقہ ہے اور اس کی حیثیت کا تعین اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات خطے میں امن کے قیام کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

مزید پڑھیں: لوگوں کو کم لاگت پر اپنی چھت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، وزیرِ اعظم

ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں سے کشیدگی میں کمی آئی ہے اور جنگ بندی جیسے اقدامات ممکن ہوئے، جس سے قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ ممکن بنایا جا سکا، پاکستان دونوں ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی کوشش جاری ہے۔

 آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے خدشات پر بھی روشنی ڈالتے ہوئےانہوں نے کہا کہ اس پیش رفت سے عالمی معیشت متاثر ہو سکتی ہے، خاص طور پر توانائی کی سپلائی پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔ ترجمان کے مطابق اس معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی غور کیا جا چکا ہے اور مختلف تجاویز زیر بحث ہیں۔

دفتر خارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور سفارتی حل کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا اور تمام فریقین کو بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔