ذرائع کے مطابق ان مذاکرات کا مقصد جاری کشیدگی کو کم کرنا اور ممکنہ جنگ بندی یا سفارتی حل کی راہ ہموار کرنا ہے، تاہم اس حوالے سے تاحال حتمی ایجنڈا سامنے نہیں آیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے پاکستانی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی وفد کی قیادت ممکنہ طور پر نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے، جو اسلام آباد میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور وزیر خارجہ سے ملاقات کریں گے۔

واضح رہے کہ اس حوالے سے متضاد اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ براہِ راست مذاکرات جلد ہوں گے، لیکن سیکیورٹی خدشات کے باعث جے ڈی وینس کی شرکت غیر یقینی ہو سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف خطے میں جاری کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں بلکہ پاکستان کی بطور ثالث سفارتی حیثیت کو بھی مزید مضبوط بنا سکتے ہیں۔