سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب خطے میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے پاکستان کی مسلسل سفارتی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، ایران پر زور دیا کہ وہ امریکا کے ساتھ جاری امن مذاکرات کو سنجیدگی سے آگے بڑھائے تاکہ خطے کو مزید تباہ کن صورتحال سے بچایا جاسکے۔

شہزادہ فیصل بن فرحان کا کہنا تھا کہ سعودی قیادت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتی ہے جس کے تحت ایران پر متوقع فوجی کارروائی کو مؤخر کیا گیا،  سفارت کاری کو موقع دینا خطے کے امن کے لیے انتہائی ضروری ہے اور تمام فریقین کو مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی طرف بڑھنا چاہیے۔

سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر موجودہ موقع سے فائدہ نہ اٹھایا گیا تو خطے میں کشیدگی خطرناک رخ اختیار کرسکتی ہے، جس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی امن اور معیشت بھی متاثر ہوسکتی ہے۔

ادھر سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان گزشتہ کئی ماہ سے ایران اور امریکا کے درمیان پسِ پردہ رابطوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اسلام آباد دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کی ترسیل، جنگ بندی تجاویز اور اعتماد سازی کے اقدامات پر متحرک سفارت کاری جاری رکھے ہوئے ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ رواں برس اپریل میں اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان ابتدائی سطح کے مذاکرات بھی ہوئے تھے، تاہم ان مذاکرات میں کسی بڑے بریک تھرو کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔ اس کے باوجود پاکستان نے رابطوں کا سلسلہ جاری رکھا اور کشیدگی کم کرنے کے لیے متعدد سفارتی چینلز استعمال کیے۔

اسی تناظر میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے چند روز کے دوران دوسری مرتبہ تہران کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال، جنگ بندی، سرحدی استحکام اور مستقبل کے امن مذاکرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ کسی جامع معاہدے تک پیش رفت نہ ہوئی تو امریکا دوبارہ فوجی کارروائی پر غور کرسکتا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن کو ایران کے جوہری پروگرام، یورینیم افزودگی اور خطے میں ایرانی اثر و رسوخ پر شدید تحفظات ہیں۔

ایران نے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی نئی فوجی کارروائی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے تازہ بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا یا اسرائیل نے دوبارہ حملہ کیا تو اس کے نتیجے میں ایک وسیع اور خطرناک علاقائی جنگ چھڑ سکتی ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ممکنہ جنگ اس مرتبہ صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔ ایران نے امریکا پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ دباؤ اور دھمکیوں کے ذریعے مذاکرات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔

یاد رہے کہ  موجودہ صورتحال میں پاکستان کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کرگیا ہے کیونکہ اسلام آباد نہ صرف اسلامی دنیا میں ایک مؤثر آواز رکھتا ہے بلکہ امریکا، سعودی عرب اور ایران تینوں کے ساتھ سفارتی روابط بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔

واضح رہے  کہ اگر پاکستان کی ثالثی کوششیں کامیاب رہتی ہیں تو نہ صرف خطے میں جنگ کے خطرات کم ہوسکتے ہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے سفارتی عمل کی راہ بھی ہموار ہوسکتی ہے۔