منصورہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ دشمن ہماری کسی بھی خوشی کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں ستر فیصد شہداء بچوں اور خواتین پر مشتمل ہیں، مگر اس کے باوجود وہاں کے عوام نے ملبے کے ڈھیر پر بھی رمضان اور عید خوشی سے منائی۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عید کے موقع پر بھی فلسطینیوں کو شہید کیا گیا، جو انسانیت کے خلاف کھلی جارحیت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے باوجود امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ طاقت کے زور پر دنیا پر قبضہ کرنے کی کوشش جاری ہے۔
انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو جنگی مجرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر موردِ الزام ٹھہرائے جانے کے باوجود وہ دنیا پر اجارہ داری کے خواب دیکھ رہا ہے۔
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ مذاکرات کی بات کرتے ہیں تو یہ محض فریب ہوتا ہے، کیونکہ ان کے اتحادیوں کو نقصان پہنچنے پر ہی مذاکرات کی بات کی جاتی ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ایران کی قیادت ان شیطانی قوتوں کو بخوبی جانتی ہے اور یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ امریکا اور اسرائیل اپنے مقاصد میں ناکام ہو چکے ہیں، جب کہ ٹرمپ کو دعوؤں کے برعکس ہزیمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس شکنجے سے باہر نکلے اور حقیقت کو سمجھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ امریکا سے تعلقات کو کامیابی سمجھتے ہیں، وہ یہ جان لیں کہ امریکا، اسرائیل اور انڈیا پاکستان کے دوست نہیں ہو سکتے۔
ملکی معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستان میں صرف 28 دن کا تیل موجود ہونے کے باوجود حکومت نے فی لیٹر 55 روپے اضافہ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ لیوی کا پیٹرول سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ اضافی ٹیکس ہے اور ایک بائیک سوار فی لیٹر تقریباً 120 روپے حکومت کو ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ غریب عوام کی گاڑیوں سے حکومت کو 700 ارب روپے اضافی حاصل ہوتے ہیں، جب کہ جاگیرداروں سے اتنا ٹیکس بھی اکٹھا نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عید پر پیٹرول کی قیمت نہ بڑھانے کا وعدہ کیا گیا، مگر اس پر عمل نہیں ہوا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مہنگائی کو کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں، جن میں پیٹرول پر چلنے والے پاور پلانٹس بند کرنا اور آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں کی انکوائری شامل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب تک انکوائری مکمل نہیں ہوتی، ان کمپنیوں کو ادائیگیاں روک دی جائیں، اس سے پیٹرول کی قیمت خود بخود کم ہو جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی عوام کی خدمت بڑی سعادت، ریلیف و بحالی آپریشن جاری رکھیں گے: صدر الخدمت فاؤنڈیشن
حافظ نعیم الرحمان نے حکومتی اخراجات پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے 11 ارب روپے کا جہاز خریدا، جب کہ چیئرمین سینیٹ کے لیے 9 کروڑ روپے کی گاڑی خریدی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ عیاشیاں اب مزید برداشت نہیں کی جا سکتیں اور قوم ان اخراجات کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ جہاز کسی ایک شخصیت کا نہیں بلکہ قوم کا ہے اور تمام اعلیٰ عہدیداروں بشمول آرمی چیف اور بیوروکریٹس کو سادہ طرز زندگی اپناتے ہوئے 1300 سی سی گاڑیوں تک محدود ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمتیں اس وقت بہت زیادہ ہیں اور انہیں فوری طور پر کم کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اور فلسطین جلد کامیاب ہوں گے۔
امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ اس جنگ کے بعد پاک-ایران گیس پائپ لائن پر کام کا آغاز ہونا چاہیے، جب کہ امتِ مسلمہ کے انتشار نے نہ ایران کو فائدہ پہنچایا اور نہ ہی کسی خلیجی ملک کو۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ امریکا مسلسل اسرائیل کی مدد کر رہا ہے اور گریٹر اسرائیل کے قیام کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے، جب کہ صہیونیت کا مقصد انسانیت کی تذلیل ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ پُرامن سیاسی احتجاج عوام کا حق ہے اور حکومت کو اس کا ادراک ہونا چاہیے۔ انہوں نے مظاہرین کو پُرامن رہنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کو روکنے کی کوششیں مزید خرابیوں کو جنم دیتی ہیں۔
انہوں نے کراچی میں امریکی قونصل خانے میں امریکی اہلکاروں کی جانب سے مبینہ فائرنگ کے واقعے کی شفاف انکوائری کا بھی مطالبہ کیا۔







