سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں وفاقی وزیرِاطلاعات کا کہنا تھا کہ پاکستان ایرانی قیادت سے مسلسل رابطے میں ہے، تاہم رات ساڑھے سات بجے تک کوئی حتمی جواب نہیں ملا۔
انہوں نے کہا کہ دو ہفتوں کی جنگ بندی 22 اپریل صبح 4 بج کر 50 منٹ (پاکستانی وقت) پر ختم ہو رہی ہے، اس لیے ایران کا بروقت فیصلہ نہایت اہم ہے۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے ایران کو مذاکرات میں شرکت پر آمادہ کرنے کے لیے مخلصانہ کوششیں کی ہیں اور یہ سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
اس سے قبل نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے امریکا اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی میں توسیع پر غور کریں اور مذاکرات و سفارتکاری کو موقع دیں۔ یہ بات انہوں نے اسلام آباد میں امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر سے ملاقات میں کہی۔
دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ خطے کے مسائل کا واحد حل مکالمہ اور سفارتکاری ہے، جب کہ امریکی نمائندے نے خطے میں امن کے لیے پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ بہترین معاہدہ کرنے کی پوزیشن میں ہے، تاہم انہوں نے جنگ بندی میں توسیع سے گریز کا عندیہ دیا۔
ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ اگر جلد معاہدہ نہ ہوا تو امریکا ایران کے خلاف دوبارہ کارروائی شروع کر سکتا ہے، ہم بہت مضبوط پوزیشن میں ہیں اور ضرورت پڑی تو حملے بھی کیے جا سکتے ہیں۔
.@JoeSquawk: "You re saying that you need at least the prospects for a signed deal today and tomorrow or else you would resume bombing Iran?"@POTUS: "Well, I expect to be bombing because I think that s a better attitude to go in with — but we re ready to go." pic.twitter.com/vEmOfes6Er
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) April 21, 2026
خیال رہے کہ حالیہ اطلاعات کے مطابق امریکی وفد دوسرے دور کے مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچ سکتا ہے، تاہم ایران کی شرکت اب بھی غیر یقینی ہے۔ اس سے قبل 11 اور 12 اپریل کو ہونے والے پہلے مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہوئے تھے، تاہم جنگ بندی برقرار رہی تھی۔
پاکستان اس پورے عمل میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، جب کہ ایران نے امریکا پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے مذاکرات میں شرکت کو امریکی رویے سے مشروط کر دیا ہے۔
حالیہ کشیدگی میں آبنائے ہرمز اور خلیج عمان میں پیش آنے والے واقعات بھی شامل ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان تنازع کے اہم نکات بن چکے ہیں۔







