سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اردو زبان میں جاری کیے گئے اپنے پیغام میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ روحانی اور بابرکت ایام میں حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام کے تعاون اور حمایت پر دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہیں، مشکل حالات میں پاکستان کی جانب سے اظہار یکجہتی دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
عباس عراقچی نے اپنے پیغام میں کہا کہ ایران ہر قسم کی بیرونی جارحیت کے مقابلے میں ثابت قدم ہے اور ملک اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے پرعزم ہے،ایران کو اللّٰہ تعالیٰ پر مکمل بھروسا ہے اور ایرانی قوم اپنے ملک کے دفاع کے لیے متحد ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران اللہ تعالیٰ پر کامل توکل کے ساتھ اپنی حاکمیت اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے ثابت قدمی اور استقامت کے ساتھ کھڑا ہے۔
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) March 16, 2026
ان کا کہنا تھا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے دوران دوست ممالک کی جانب سے ملنے والی اخلاقی اور سفارتی حمایت ایران کے لیے حوصلہ افزا ہے، ایران امن و استحکام کا خواہاں ہے تاہم اپنی قومی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
اس سے قبل بھی عباس عراقچی نے مختلف بیانات میں حالیہ صورتحال پر اپنے مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے خلاف بعض حملے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے تہران میں تیل کی تنصیبات پر کیے گئے حملوں کو غیر قانونی اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیا تھا۔
مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتِ حال پر تمام فریقین کے ساتھ رابطے میں ہیں، چین
انہوں نے ایک اور بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو بھی مسترد کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ایران نے مذاکرات کے لیے رابطہ کیا ہے،ایران نے اس حوالے سے کسی قسم کی درخواست نہیں کی اور نہ ہی ایسے دعووں میں کوئی صداقت ہے۔
واضع رہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں مختلف ممالک کے بیانات اور سفارتی سرگرمیاں خطے کی صورتحال پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ ایسے حالات میں پاکستان اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں کو بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔







