وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے آخری ایٹمی تجربات مئی 1998 میں ہوئے تھے اور پاکستان کا مؤقف ایٹمی تجربات کے حوالے سے واضح اور مستقل ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایٹمی تجربات پر جامع پابندی کی قراردادوں کی حمایت کرتا آیا ہے، جب کہ انڈیا کی جانب سے ان قراردادوں سے اجتناب اس کے مشکوک عزائم کو ظاہر کرتا ہے۔

دفترِ خارجہ کے مطابق پاکستان کا ایٹمی پروگرام ایک مضبوط کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم، جامع ایکسپورٹ کنٹرولز اور عالمی عدمِ پھیلاؤ کے اصولوں کی مکمل پاسداری کے تحت چل رہا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان-افغانستان استنبول مذاکرات بے نتیجہ ختم؛ ’مذاکرات کے اگلے دور کا اب کوئی پروگرام نہیں‘

ترجمان نے کہا کہ پاکستان پر “خفیہ یا غیر قانونی ایٹمی سرگرمیوں” کے الزامات بے بنیاد، بدنیتی پر مبنی اور انڈین گمراہ کن مہم کا حصہ ہیں، جس کا مقصد دنیا کی توجہ انڈیا کے اپنے غیر ذمہ دارانہ رویے سے ہٹانا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ انڈیا کا ایٹمی سلامتی اور سیکیورٹی کا ریکارڈ انتہائی تشویش ناک ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران انڈیا میں ایٹمی مواد اور ریڈیائی مادوں کی چوری اور غیر قانونی اسمگلنگ کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ برس انڈیا کے بھابھا ایٹامک ریسرچ سینٹر سے قیمتی تابکار مادہ ‘کیلی فورنیم’، جس کی مالیت 10 کروڑ ڈالر سے زائد تھی، بلیک مارکیٹ میں فروخت کے لیے دستیاب پایا گیا۔

دفترِ خارجہ کے مطابق یہ واقعات انڈیا میں حساس ایٹمی مواد کی غیر قانونی منڈی کی موجودگی اور ایٹمی تحفظ میں سنگین خامیوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ ترجمان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ان خطرناک کمزوریوں کا سختی سے نوٹس لے، جو علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔