وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اس سال 30 اپریل تا 21 مئی اور 7 تا 15 دسمبر کے دوران دریائے چناب کے بہاؤ میں غیر معمولی اور اچانک تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انڈیا نے بغیر کسی پیشگی اطلاع یا متعلقہ ڈیٹا کے پانی چھوڑا ہے۔
پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر نے انڈین ہم منصب سے وضاحت طلب کی ہے، جیسا کہ سندھ طاس معاہدےکے تحت طے پایا ہے اور سیکرٹری واٹر ریسورسز مزید تکنیکی معلومات فراہم کریں گے۔
وزارتِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ انڈیا کی حالیہ کارروائی پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کے مترادف ہے، جس سے پاکستان کے زرعی شعبے، شہریوں کی زندگیوں، غذائی و اقتصادی سلامتی اور معیشت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
وزارتِ خارجہ نے انڈیا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے تمام وعدوں کو پورا کرے، دریاؤں کے بہاؤ میں یکطرفہ مداخلت بند کرے اور عالمی قوانین اور معاہداتی ذمہ داریوں کی پاسداری کرے۔
پاکستان نے انڈیا کی جانب سے کشنگنغا اور رٹل ہائیڈرو پاور منصوبوں کی تعمیر اور دیگر غیر قانونی اقدامات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے، جو ٹریٹی کی تکنیکی شرائط کی خلاف ورزی ہیں اور پاکستان کی سیکورٹی اور عوام کی زندگیوں کے لیے خطرہ ہیں۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کی طلبہ تحریک کے رہنما سنگاپور کے ہسپتال میں جاں بحق، ملک میں احتجاجی مظاہرے
وزارتِ خارجہ نے عالمی برادری خاص طور پر اقوام متحدہ کے سیکیورٹی کونسل کے اراکین، سے اپیل کی ہے کہ انڈیا کو سندھ طاس معاہدے کی بحالی، پانی کے ہتھیار کے استعمال سے باز رکھنے اور خطے میں امن و استحکام قائم رکھنے کی تاکید کریں۔
پاکستان حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ تنازعات کے پرامن حل کے لیے پرعزم ہے، لیکن اپنے عوام کے پانی کے بنیادی حقوق پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گا۔







