معرکہ حق کو ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر اسلام آباد میں تفصیلی پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پیش آنے والے تمام اہم واقعات، دفاعی اقدامات اور خطے کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ پاکستان نے کس طرح انتہائی حساس حالات میں ذمہ داری، تحمل اور پیشہ ورانہ حکمت عملی کا مظاہرہ کیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے چند ہی منٹوں میں بغیر کسی تحقیق اور شواہد کے پاکستان پر الزامات عائد کر دیے، تاہم ایک سال گزرنے کے باوجود آج تک دنیا کے سامنے کوئی قابلِ اعتماد ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر بھارتی انٹیلیجنس ادارے اتنے ہی مؤثر تھے تو حملہ آوروں کی نقل و حرکت اور سرگرمیوں کا پہلے سے پتا کیوں نہ چل سکا۔ ان کے مطابق یہی سوال آج عالمی برادری، پاکستانی عوام اور خود بھارت کے باشعور حلقے بھی اٹھا رہے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ واقعے کے بعد بھارتی حکام نے عالمی میڈیا کو مختلف علاقوں کے دورے کرائے، لیکن اس کے باوجود کوئی واضح شواہد فراہم نہ کیے جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا نے خود دیکھا کہ متاثرین میں عام شہری، خواتین، بچے اور بزرگ شامل تھے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت مسلسل پاکستان پر دہشتگردی کے الزامات عائد کرتا رہا، لیکن معرکہ حق کے بعد اس کا یہ بیانیہ عالمی سطح پر اپنی ساکھ کھو چکا ہے۔ ان کے مطابق دنیا اب بخوبی سمجھ چکی ہے کہ خطے میں کشیدگی اور عدم استحکام پیدا کرنے میں اصل کردار کون ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے پورے بحران کے دوران انتہائی ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا اور ہر مرحلے پر خطے کے امن کو ترجیح دی، پاکستان نے کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے اور صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے مؤثر اور متوازن حکمت عملی اپنائی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ عالمی برادری نے بھی دیکھا کہ پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر تحمل، سفارت کاری اور پیشہ ورانہ انداز اپنایا، جبکہ بھارت کی جانب سے اشتعال انگیز بیانات اور سیاسی مقاصد پر مبنی بیانیہ سامنے آتا رہا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت خود کو خطے کا “نیٹ سکیورٹی پرووائیڈر” ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن معرکہ حق نے اس دعوے کی حقیقت دنیا کے سامنے آشکار کر دی۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران بھارت کی عسکری اور سیاسی قیادت کے کئی بیانات غیر پیشہ ورانہ اور سیاسی نوعیت کے دکھائی دیے، جبکہ پاکستان کی مسلح افواج نے مکمل پیشہ ورانہ طرزِ عمل اختیار کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فوجی قیادت نے کبھی سیاسی نوعیت کے اشتعال انگیز بیانات نہیں دیے، جبکہ بھارتی سیاسی اور عسکری حلقے اکثر جنگی ماحول پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کو اپنے داخلی مسائل، خصوصاً اقلیتوں کے ساتھ سلوک، منی پور کی صورتحال اور مقبوضہ کشمیر میں جاری اقدامات پر توجہ دینی چاہیے، لیکن اس کے بجائے وہ پاکستان پر الزامات لگا کر توجہ ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی تنازع ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادیں اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہیں۔ ان کے مطابق آبادی کا تناسب تبدیل کرنے یا قانونی تبدیلیوں کے باوجود کشمیر کا مسئلہ اپنی جگہ موجود ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جدید جنگ اب صرف روایتی میدان تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ سائبر، اطلاعات، بیانیے اور ذہنی سطح تک پھیل چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے معرکہ حق اور “بنیان مرصوص” کے دوران ان تمام شعبوں میں اپنی تیاری اور صلاحیت کا عملی مظاہرہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی مکمل طور پر تیار تھا، دورانِ معرکہ بھی متحرک رہا اور اب بھی ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ معرکہ حق نے یہ ثابت کیا کہ پاکستان کی افواج، قیادت اور عوام ایک صفحے پر کھڑے ہیں، بچے سے لے کر بزرگ تک، کشمیر سے گوادر تک پوری قوم متحد رہی اور یہی قومی اتحاد پاکستان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا واضح مؤقف ہے کہ کسی بھی ملک کی سرزمین دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے، اور اسی اصول کے تحت پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے مسلسل سفارتی اور دفاعی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ شفافیت، حقیقت اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کو ترجیح دی ہے تاکہ دنیا کو درست صورتحال سے آگاہ رکھا جا سکے اور کسی بھی قسم کی غلط فہمی پیدا نہ ہو۔







