دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق طاہر حسین اندرابی نے میڈیا کے سوالات کے جواب میں کہا کہ انڈیا کے ریمارکس تشویش کے لبادے میں حقیقت سے فرار کے مترادف ہیں اور ایسے بیانات انڈیا کے اپنے داخلی ریکارڈ کو نہیں چھپا سکتے، جہاں مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر پسماندہ طبقات کے خلاف امتیاز اور تشدد کو بتدریج معمول بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عبادات پر پابندیوں سے لے کر ہجوم کے ہاتھوں تشدد (ماب لنچنگ) اور گھروں و روزگار کو نشانہ بنانے تک یہ رجحانات اچھی طرح دستاویزی شکل میں موجود ہیں۔
ترجمان کے مطابق مسلمانوں کو نشانہ بنانے والی ماب لنچنگ (ہجوم کے ہاتھوں قتل) کے واقعات میں اضافہ نہایت تشویشناک اور قابل مذمت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2025 کے دوران 55 سے زائد جبکہ جنوری 2026 سے اب تک 19 سے زائد مسلمانوں کو ہجوم کے ہاتھوں قتل کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ انتہا پسند گروہوں نے غیر قانونی طور پر 11 مساجد کو شہید کرنے کی کوشش کی ہے۔ مسلمانوں کے خلاف جرائم میں ملوث افراد اکثر ریاستی سرپرستی کے باعث دندناتے پھرتے ہیں اور شاذ و نادر ہی قانون کے کٹہرے میں لائے جاتے ہیں۔
🔊 PR No. 7️⃣8️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
— Ministry of Foreign Affairs - Pakistan (@ForeignOfficePk) March 28, 2026
Statement by the Spokesperson in Response to the Statement Made by the Indian Ministry of External Affairs
🔗⬇️ pic.twitter.com/FGDijIxZU0
ترجمان نے کہا کہ پاکستان انڈیا پر زور دیتا ہے کہ وہ اپنے ملک میں موجود ان سنگین مسائل کا نوٹس لے، اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنائے اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق عمل کرے، نیز دیگر ممالک کے خلاف بے بنیاد اور سیاسی مقاصد پر مبنی بیانات دینے سے گریز کرے۔
واضح رہے کہ انڈین وزارت خارجہ نے 27 مارچ کو ایک بیان جاری کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان میں شیعہ برادری کو نشانہ بنانا کوئی الگ واقعہ نہیں بلکہ اقلیتوں کو منظم طریقے سے ہراساں کرنے کا حصہ ہے۔
انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایک بیان میں فیلڈ مارشل کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے شیعہ علماء سے ملاقات کے دوران مبینہ طور پر کہا تھا کہ ایران میں ہونے والے واقعات پر احتجاج یا تشدد کرنے والے ایران چلے جائیں۔
تاہم، پاکستان نے ان بیانات کو مسترد کرتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہے۔






