اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں سلامتی کونسل کی سالانہ رپورٹ پر بحث کے دوران بھارتی مندوب کے ریمارکس کا جواب دیتے ہوئے گل قیصر سروانی نے کہا کہ انڈیا مقبوضہ کشمیر کے بارے میں حقائق سے انکار، توجہ ہٹانے اور اقوام متحدہ کو گمراہ کرنے کے بجائے زمینی حقائق کا جائزہ لے۔

انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر نہ کبھی انڈیا کا نام نہاد اٹوٹ انگ تھا، نہ ہے اور نہ کبھی ہوگا۔ انڈیا کشمیری عوام کو ان کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے مسلسل محروم رکھے ہوئے ہے، جب کہ مقبوضہ کشمیر میں من مانی گرفتاریاں، بنیادی آزادیوں پر پابندیاں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی کوششیں اور دیگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔

اس سے قبل اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر گل قیصر سَرواَنی نے جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کی تازہ ترین سالانہ رپورٹ میں کشمیر اور فلسطین سمیت دیرینہ تنازعات کی مسلسل اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے، جن کا حل سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ رپورٹ کے مطابق یکم جنوری سے 31 دسمبر 2025 کے دوران  اںڈیا-پاکستان سوال  کے حوالے سے 20 سے زائد مراسلات سلامتی کونسل کے سامنے پیش کیے گئے، جب کہ مئی 2025 میں اس معاملے پر سلامتی کونسل نے بند کمرے میں مشاورت بھی کی۔

پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ یہ امر اس بات کا ثبوت ہے کہ جموں و کشمیر کا تنازع اب بھی سلامتی کونسل کی توجہ کا مرکز ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن صرف اسی صورت ممکن ہے جب کشمیر تنازع کو سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیا جائے۔

مزید پڑھیں: انڈیا پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے، پاکستان کا چناب کا پانی موڑنے کے منصوبے پر شدید ردعمل

فلسطین کے حوالے سے سفیر آصف افتخار احمد نے کہا کہ غزہ کی صورتحال بدستور سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر سرفہرست ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ غزہ امن منصوبے کی توثیق کرنے والی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر مکمل اور دیانتداری سے عمل درآمد ضروری ہے۔

انڈین مندوب پروتھانینی ہریش نے جنرل اسمبلی میں دعویٰ کیا کہ کشمیر انڈیا کا اٹوٹ انگ ہے، جس پر جواب دیتے ہوئے گل قیصر سروانی نے کہا کہ انڈیا سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد سے مسلسل گریز کر رہا ہے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو نظرانداز کر رہا ہے۔

پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ پاکستان کے خلاف الزامات لگا کر انڈیا اپنے ریکارڈ کو نہیں چھپا سکتا، جس میں مقبوضہ کشمیر میں ریاستی جبر، خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی سرگرمیاں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اقوام متحدہ کے نظام میں اصلاحات ایسی ہونی چاہئیں جو تمام رکن ممالک کے مفادات کی نمائندگی کریں، نہ کہ صرف چند طاقتور ممالک کے مفادات کا تحفظ کریں۔