نجی نشریاتی ادارے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ طورخم بارڈر غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی بے دخلی کے لیے کھولا گیا ہے، اس مقام پر کسی قسم کی تجارت نہیں ہو رہی۔ بے دخلی کا عمل جاری رہنا چاہیے تاکہ ایسے عناصر دوبارہ پاکستان میں داخل نہ ہو سکیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت تمام امور معطل ہیں، حتیٰ کہ ویزہ پروسیسنگ بھی بند ہے، جب تک مذاکرات مکمل نہیں ہوتے، ویزہ کا عمل بحال نہیں کیا جائے گا۔ افغان شہریوں کا معاملہ اب پہلی بار بین الاقوامی سطح پر زیر بحث آیا ہے، جہاں ترکیہ اور قطر ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پہلے افغانستان غیر قانونی مقیم افغانوں کے مسئلے کو تسلیم نہیں کرتا تھا، اب اس کی اونرشپ عالمی سطح پر تسلیم کر لی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مذاکرات میں یہ شق بھی شامل ہے کہ اگر افغانستان کی سرزمین سے کوئی غیر قانونی سرگرمی سامنے آتی ہے تو اس کا ہرجانہ ادا کرنا ہوگا۔

وزیرِ دفاع نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے کسی قسم کی خلاف ورزی نہیں ہو رہی بلکہ سیز فائر کی خلاف ورزی افغانستان کی طرف سے ہو رہی ہے۔ افغانستان تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ اس تمام معاملے میں ہماری اسٹیبلشمنٹ کا کردار ہے، حالانکہ چاروں ممالک کی اسٹیبلشمنٹس کے نمائندے مشترکہ طور پر ثالثی میں شریک ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام میں سخت غصہ پایا جاتا ہے کیونکہ اس مسئلے سے سب سے زیادہ اثر اسی صوبے نے برداشت کیا ہے۔

مزید پڑھیں: طورخم بارڈر افغان شہریوں کی واپسی کے لیے کھول دیا گیا، دو طرفہ تجارتی آمدورفت بند رہے گی

خواجہ آصف نے کہا کہ قوم، سیاستدان اور تمام ادارے ایک ہی پیج پر ہیں اور سب چاہتے ہیں کہ افغانستان کے مسئلے کا فوری حل نکلے، جو صرف اسی صورت ممکن ہے جب افغان سرزمین سے دہشت گردی ختم ہو۔

انہوں نے کہا کہ اگر دونوں ممالک مہذب اور سویلائزڈ تعلقات قائم رکھ سکیں تو یہ دونوں کے مفاد میں ہوگا۔ انڈیا کی پراکسی وار کے ثبوت اشرف غنی کے دورِ حکومت سے موجود ہیں، اب تو دنیا بھی اس حقیقت کو مان چکی ہے۔

وزیرِ دفاع نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو مزید ثبوت فراہم کریں گے، لیکن اب یہ بات سب جانتے ہیں کہ انڈیا ہمیں مشرقی اور مغربی محاذوں پر مصروف رکھنا چاہتا ہے۔ مشرقی محاذ پر انڈیا کو منہ کی کھانی پڑی، مودی چپ ہو گیا ہے، جب کہ مغربی محاذ پر ہم پُرامید ہیں کہ ثالثی کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔