ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ترجمان دفترِ خارجہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے ولی عہد اور وزیراعظم بحرین شہزادہ سلمان بن حمد الخلیفہ سے بھی مذاکرات کیے۔ ملاقات میں دوطرفہ تجارت کو موجودہ 550 ملین ڈالر سے تین برس میں ایک ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ پاکستان جی سی سی فری ٹریڈ ایگریمنٹ کی جلد تکمیل اور حالیہ ویزا سہولیات سے تجارت میں اضافہ متوقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے بحرینی سرمایہ کاروں کو فوڈ سکیورٹی، آئی ٹی، تعمیرات، مائنز و منرلز، ہیلتھ کیئر، قابلِ تجدید توانائی اور سیاحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ دونوں ممالک نے سیاسی، معاشی، سکیورٹی اور عوامی روابط پر مبنی تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اطمینان کا اظہار کیا۔

ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا کہ دورے کے دوران ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے بحرین کے وزیر خزانہ شیخ سلمان بن خلیفہ سے ملاقات کی۔ فِن ٹیک، بینکنگ اور مرکزی بینکوں کے باہمی تعاون پر بھی گفتگو ہوئی۔ دونوں ممالک نے اقتصادی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ایران کے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری کے دورۂ پاکستان کو بھی سراہا، جس میں دونوں ممالک نے سرحدی سکیورٹی، انسدادِ دہشت گردی، تجارت، علاقائی روابط اور عوامی تبادلوں پر جامع بات چیت کی۔ پاکستان اور ایران نے علاقائی امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے انڈین وزیردفاع کے سندھ سے متعلق اشتعال انگیز بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیان ’’گمراہ کن، توسیع پسندانہ اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی‘‘ ہے

 ترجمان نے کہا کہ انڈیا کے اندر اقلیتوں پر ظلم، مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی اور شمال مشرقی ریاستوں میں بغاوت جیسے سنگین مسائل سے توجہ نہیں ہٹائی جاسکتی۔

دفتر خارجہ نے اقوام متحدہ کے ماہرین کی تازہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں 2800 سے زائد کشمیریوں کی گرفتاری، جبری حراست، میڈیا پابندیاں، گھروں کی مسماری اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں انڈیاکے ظلم کو بے نقاب کرتی ہیں۔ پاکستان نے انڈیاسے مطالبہ کیا کہ تمام گرفتار کشمیریوں کو فوری رہا کرے۔

مزید پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کوئی سیاسی قیدی نہیں، 190 ملین پاؤنڈ میگا کرپشن کیس میں سزا یافتہ مجرم ہیں، عطاء اللہ تارڑ

دفتر خارجہ نے ایودھیا میں بابری مسجد کی جگہ بنائے گئے ’’رام مندر‘‘ پر جھنڈا کشائی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انڈیامیں اسلاموفوبیا، نفرت انگیزی اور اقلیتوں پر تشدد میں اضافہ عالمی برادری کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ پاکستان نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ اسلامی ورثے اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کردار ادا کرے۔

ترجمان نے غزہ پر اسرائیلی حملوں کی بھی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائیاں نہ صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف ہیں بلکہ شرم الشیخ امن معاہدے کی بھی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ پاکستان نے فلسطین کے لیے اپنی دیرینہ حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر آزاد فلسطینی ریاست ہی مسئلے کا واحد حل ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو او پی سی ڈبلیو کی ایگزیکٹو کونسل میں 2026–28 کی مدت کے لیے دوبارہ منتخب کیا گیا ہے، جسے پاکستان کا عالمی سطح پر اعتماد کا مظہر قرار دیا گیا ہے۔