احتجاجی مظاہرے کی قیادت حلقہ خواتین جماعت اسلامی کی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر حمیرا طارق، ڈپٹی سیکرٹری ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی، ڈپٹی سیکرٹری اور ڈائریکٹر میڈیا سیل ثمینہ سعید اور ناظمہ ضلع لاہور عظمیٰ عمران نے کی۔

مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ یہ واقعہ بھارت کے اس دعوے کو بے نقاب کرتا ہے جس کے تحت وہ خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے، جبکہ حقیقت میں وہاں حکمران طبقہ بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیوں میں ملوث ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک مسلمان خاتون کی عزت و وقار کو سرعام پامال کرنا کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ ریاستی سرپرستی میں پروان چڑھنے والی مسلم دشمن اور انتہاپسند سوچ کا اظہار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے واقعات اس ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں جو مذہبی آزادی کو کچل کر ایک خاص نظریے کی بالادستی مسلط کرنا چاہتی ہے، اور یہ عمل نہ صرف مسلمانوں بلکہ تمام اقلیتوں کے لیے خطرے کی علامت ہے۔

ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے پر حکومتِ پاکستان کی جانب سے فوری اور واضح ردعمل سامنے نہ آنا تشویشناک ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت سفارتی سطح پر مؤثر آواز بلند کرے اور عالمی فورمز پر بھارت میں اقلیتوں کے خلاف ہونے والی زیادتیوں کو اجاگر کرے۔

ثمینہ سعید نے کہا کہ تمام مسلم ممالک کو چاہیے کہ وہ اپنے ہاں بھارتی سفیروں کو طلب کر کے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرائیں اور عالم اسلام اس معاملے پر متحد ہو کر مسلمان خواتین کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کا مطالبہ کرے۔


عظمیٰ عمران نے کہا کہ حجاب اور نقاب مسلمان خواتین کی شناخت، مذہبی آزادی اور بنیادی حق ہے، جسے کوئی طاقت سلب نہیں کر سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں مسلمان خواتین کی عزت، مذہبی آزادی اور پردے کے حق پر مسلسل حملے کیے جا رہے ہیں جو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

مظاہرے کے شرکا نے عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیں اور مسلمان خواتین کے مذہبی و انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

احتجاج میں حلقہ خواتین جماعت اسلامی ضلع لاہور کی ارکان اور کارکنان کے علاوہ گھریلو اور ملازمت پیشہ خواتین، سول سوسائٹی کے نمائندے، انسانی حقوق کے کارکنان اور میڈیا سے وابستہ افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور متاثرہ مسلمان خاتون سے یکجہتی کا اظہار کیا۔