ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ گزشتہ تین دن سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں موجود تھے تاکہ گرفتاری سے بچ سکیں۔
جمعے کی صبح جب وہ ہائیکورٹ بار کے عہدیداران اور دیگر وکلاء کے ہمراہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس جا رہے تھے تو پولیس نے سرینا ہوٹل کے قریب انڈر پاس سے انہیں حراست میں لے لیا۔
گرفتاری کے دوران موقع پر موجود صحافیوں سے مبینہ طور پر موبائل فون چھیننے کے الزامات بھی سامنے آئے۔ بعد ازاں ایمان مزاری کو تھانہ ویمن منتقل کر دیا گیا۔
ایمان مزاری کی گرفتاری کی خبر پھیلتے ہی وکلاء کی بڑی تعداد تھانے کے باہر جمع ہونا شروع ہو گئی، جبکہ وکلاء کے ساتھ بدسلوکی اور تشدد کے الزامات بھی سامنے آئے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر واجد گیلانی نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے نہ صرف وکلاء پر تشدد کیا بلکہ گاڑی کے شیشے توڑ کر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو گرفتار کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بار کے سیکریٹری کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا جو وکلاء کی تضحیک اور عدالتی نظام پر دباؤ ڈالنے کے مترادف ہے۔
ان واقعات کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے ہنگامی نوٹس جاری کرتے ہوئے مکمل ہڑتال کا اعلان کر دیا۔
بار ایسوسی ایشن کے مطابق 23 جنوری کو اسلام آباد ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں میں تمام عدالتی سرگرمیاں معطل رہیں گی۔
یاد رہے کہ متنازع ٹویٹ کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے تحریری فیصلے میں ٹرائل کورٹ کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے واضح کیا گیا تھا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو اس کیس میں گرفتار نہ کیا جائے۔
اسی طرح نیشنل پریس کلب کے باہر احتجاج سے متعلق مقدمے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے دونوں کی دو دن کے لیے حفاظتی ضمانت منظور کی تھی۔
اس درخواست کی سماعت جسٹس محمد اعظم خان نے کی تھی جنہوں نے 10 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض حفاظتی ضمانت دیتے ہوئے متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کی تھی۔
سماعت کے دوران وکیل کامران مرتضیٰ نے عدالت کو بتایا کہ ایمان مزاری درجنوں مرتبہ عدالتوں میں پیش ہو چکی ہیں اور اگر گرفتاری مقصود ہوتی تو پراسیکیوشن پہلے ہی یہ قدم اٹھا سکتی تھی۔
بعد ازاں ایک نئی ایف آئی آر سامنے آنے کے بعد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں واقع لیگل برانچ کو تالہ لگا دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ایف آئی آر لیک کرنے کے الزام پر پولیس کے سینیئر افسران کی ہدایت پر یہ اقدام اٹھایا گیا۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف یہ ایف آئی آر جولائی میں درج کی گئی تھی، تاہم گرفتاری کے خدشے کے باعث دونوں گزشتہ تین روز سے ہائی کورٹ میں موجود تھے۔







