تنظیم کے مطابق تین روزہ اجتماع میں عوام کی بڑی تعداد کی شرکت متوقع ہے، جن میں خواتین، شیرخوار بچوں کے ہمراہ خاندان، نوجوان اور بزرگ شامل ہوں گے۔ شرکاء کے لیے 329 ایکڑ پر مشتمل وسیع انتظامات کیے گئے ہیں، جب کہ بادشاہی مسجد کو بھی انتظامی حدود میں شامل کیا گیا ہے۔
انتظامیہ کے مطابق اجتماع کے لیے دو ہزار سے زائد تربیت یافتہ رضاکار، جب کہ اسی تعداد میں سیکیورٹی کے رضاکار اپنی ڈیوٹیاں سرانجام دیں گے۔ 55 سے زائد کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جب کہ 39 نائب ناظمِ اجتماع بھی نامزد کیے گئے ہیں۔
اجتماع عام کے نیشنل سیشن میں ملک کی نمایاں شخصیات شریک ہوں گی، جب کہ انٹرنیشنل سیشن میں 145 غیر ملکی مندوبین اور مہمان شرکت کریں گے۔
شرکاء کی سہولت کے لیے خواتین کا الگ پنڈال قائم کیا گیا ہے۔ دو ہزار سے زائد واش رومز، مرد و خواتین کے لیے دو فیلڈ اسپتال، چار ڈسپینسریاں اور دس موبائل ہیلتھ یونٹس فعال کر دیے گئے ہیں۔ اجتماع گاہ میں 40 ایمبولینسز اور 20، 20 بستروں پر مشتمل مرد و خواتین کے علیحدہ میڈیکل یونٹس قائم ہیں، جہاں 50 ڈاکٹرز ڈیوٹی پر موجود ہوں گے۔
اجتماع میں بیک وقت چار ہزار افراد کے لیے وضو کا انتظام بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔ میڈیا کے لیے ڈیجیٹل میڈیا کیمپ اور مین اسٹریم میڈیا زون قائم کیا گیا ہے، جب کہ نوجوانوں کے لیے یوتھ ایرینا اور معزز مہمانوں کے لیے وی آئی پی لاؤنج بھی تیار کر لیا گیا ہے۔
اسٹیج 20 فٹ اونچا، 120 فٹ لمبا اور 40 فٹ چوڑا بنایا گیا ہے۔ اجتماع کے دوران معروف شاعر انور مسعود کی صدارت میں خصوصی مشاعرہ بھی منعقد ہوگا۔
ذرائع کے مطابق اجتماع عام میں ’’نظام کی تبدیلی‘‘ کی ہمہ گیر تحریک کے آغاز کا اعلان متوقع ہے، جب کہ مختلف سیشنز کی سفارشات حکومت کو اصلاحات کے لیے پیش کی جائیں گی۔






