پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف کی شرائط کے نام پر عوام پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈال رہی ہے، جو کسی صورت قابل قبول نہیں، ملکی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے ٹیکس نظام میں بنیادی اصلاحات کی جائیں، لیکن اس کے بجائے ہر بار آسان راستہ اختیار کرتے ہوئے عوام سے مزید وصولیاں کی جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات صرف سفری اخراجات تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس سے اشیائے خورونوش، زرعی پیداوار، صنعتی لاگت، ٹرانسپورٹ اور روزمرہ استعمال کی ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے، مہنگائی نے متوسط طبقے کی قوت خرید کو شدید متاثر کیا ہے جبکہ غریب طبقہ بنیادی ضروریات پوری کرنے سے بھی قاصر ہوتا جا رہا ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ایف بی آر میں اصلاحات کیے بغیر مزید ٹیکس عائد کرنا عوام کے ساتھ ناانصافی ہے،  ملک میں ٹیکس نیٹ بڑھانے، کرپشن ختم کرنے اور بڑے ٹیکس نادہندگان سے وصولیاں کرنے کے بجائے حکومت ہر بار عام شہریوں کو نشانہ بناتی ہے، جو درست پالیسی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک کا ہر شہری، چاہے وہ طالب علم ہو، مزدور، کسان یا ملازمت پیشہ فرد، روزانہ پیٹرولیم لیوی کی ادائیگی پر مجبور ہے، جس کے باعث زندگی کا ہر شعبہ مہنگائی کی لپیٹ میں آ چکا ہے،  حکمران اپنی مراعات برقرار رکھے ہوئے ہیں جبکہ تمام مالی بوجھ عوام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی 7 اگست کو ملک بھر میں پرامن احتجاج کرے گی تاکہ عوام اپنے آئینی اور جمہوری حق کے تحت مہنگائی، پیٹرولیم لیوی اور حکومتی معاشی پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کر سکیں۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ احتجاج میں بھرپور شرکت کریں، تاہم امن و امان برقرار رکھیں اور ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ نہ بنیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ 3 اگست کو کراچی میں خواتین کا ایک بڑا احتجاجی مارچ بھی منعقد کیا جائے گا، جس میں خواتین مہنگائی، بڑھتے ہوئے اخراجات اور عوامی مسائل کے خلاف اپنا مؤثر احتجاج ریکارڈ کرائیں گی،  یہ مارچ صرف کراچی تک محدود نہیں ہوگا بلکہ پورے ملک کے عوامی جذبات کی ترجمانی کرے گا۔

امیر جماعت اسلامی نے توانائی کے شعبے پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا، آئی پی پیز کے معاہدوں نے قومی خزانے پر اربوں روپے کا اضافی بوجھ ڈال دیا ہے اور بجلی پیدا نہ ہونے کے باوجود صلاحیتی ادائیگیوں کا سلسلہ عوام کے ساتھ زیادتی ہے، سستی اور ماحول دوست سولر توانائی کے فروغ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا بھی عوام دشمن پالیسیوں کا حصہ ہے۔

آزاد کشمیر کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ مسئلہ طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ مذاکرات کے ذریعے حل ہونا چاہیے، کشمیر کے عوام ہمارے اپنے ہیں اور ان کے ساتھ مسلسل بات چیت ہی دیرپا امن کا راستہ ہے، خونریزی روکنے کے لیے فوری طور پر مذاکرات کا آغاز کیا جانا چاہیے، جبکہ جماعت اسلامی آزاد کشمیر میں مفاہمت اور سیاسی حل کی ہر کوشش کی حمایت کرتی ہے۔

مزید پڑھیں: سورنج کوئلہ کان حادثہ انتہائی افسوسناک، پھنسے مزدوروں کو جلد نکالا جائے: حافظ نعیم الرحمان

انہوں نے بلوچستان میں حالیہ کان حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ مزدوروں کے لیے حفاظتی انتظامات کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان اور گورننس کی صورتحال انتہائی سنجیدہ ہے اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کو فوری توجہ دینی چاہیے۔

سیاسی امور پر گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اگر ملک میں گورننس کے مسائل موجود ہیں تو اس کی ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے، انتخابی نتائج فارم 45 کے مطابق تسلیم کیے جائیں اور اقتدار اسی جماعت کو منتقل کیا جائے جسے عوام نے ووٹ دیا ہو۔

انہوں نے بلدیاتی اداروں کو آئینی تقاضوں کے مطابق بااختیار اور مالی وسائل فراہم کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ اختیارات کی حقیقی نچلی سطح تک منتقلی کے بغیر عوامی مسائل حل نہیں کیے جا سکتے۔

مزیدپڑھیں: عوامی حقوق اور مہنگائی کے خلاف 7 اگست کو پرامن جدوجہد کا آغاز کریں گے، حافظ نعیم الرحمان

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ سیاسی انجینئرنگ، غیر آئینی مداخلت اور جمہوری عمل میں رکاوٹیں ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوج، بیوروکریسی اور سیاستدان غیر ضروری مراعات ترک کریں، سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے، سیاسی انتقام کا خاتمہ کیا جائے اور متناسب نمائندگی پر مبنی انتخابی اصلاحات متعارف کرائی جائیں۔

انہوں نے کراچی سرکلر ریلوے اور کے-فور جیسے اہم ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر کو بھی حکومتی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں مزید تاخیر ناقابل قبول ہے۔

اپنی پریس کانفرنس کے اختتام پر امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پاکستان کو موجودہ معاشی، سیاسی اور انتظامی بحرانوں سے نکالنے کا واحد راستہ آئین کی بالادستی، شفاف انتخابات، عوامی مینڈیٹ کے احترام، مضبوط بلدیاتی نظام اور عوام دوست پالیسیوں کے نفاذ میں ہے۔