سپریم کورٹ آف پاکستان کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی صحت سے متعلق معاملات پر ریاستی اداروں پر سنگین غفلت اور ’طبی دہشت گردی‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرزِ عمل سے عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ رات تین بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر موجود رہے۔ ماضی میں جب ملاقاتوں پر پابندی عائد کی جاتی تھی تو مؤقف اختیار کیا جاتا تھا کہ سیاسی ملاقاتیں بند ہیں، تاہم گزشتہ دو دنوں میں عمران خان کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ محض سیاسی نہیں بلکہ ایک سنگین انسانی اور طبی مسئلہ ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ جیل سے منتقلی کے وقت عمران خان کی حالت کیا تھی، ان کے ساتھ کیا ہوا، آپریشن کی ضرورت کیوں پیش آئی اور اس وقت ان کی صحت کی موجودہ صورتحال کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسی لیے مسلسل مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ عمران خان کے ذاتی معالجین کو ملاقات کی اجازت دی جائے تاکہ وہ قوم کو حقائق سے آگاہ کر سکیں، مگر ایک بے حس نظام نے آئین اور قانون کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ عمران خان پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے تاحیات چیئرمین، سابق وزیراعظم اور ملک کے مقبول ترین سیاسی رہنما ہیں، اس کے باوجود انہیں اہل خانہ اور ذاتی ڈاکٹرز کی اجازت کے بغیر زبردستی ایسے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کے مرض کا متعلقہ ماہر ڈاکٹر موجود ہی نہیں تھا۔ یہ اقدام ’سراسر طبی دہشت گردی‘ کے مترادف ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت نے پی آئی اے کے بعد اسلام آباد ایئرپورٹ کی نجکاری کی تیاری پکڑ لی

انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس واقعے کو پانچ دن تک قوم، اہل خانہ، وکلاء اور ذاتی معالجین سے چھپایا گیا۔ جب اس پر سوالات اٹھے تو وفاقی وزرا نے کھلے عام تردید اور جھوٹ بولنے کا سہارا لیا، تاہم بعد ازاں حکومت کے اپنے ایک وزیر نے آپریشن کی تصدیق کر دی۔ اس کے باوجود حقائق چھپانے اور غلط بیانی کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔

سہیل آفریدی نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق تمام تفصیلات قوم کے سامنے لائی جائیں اور ذمہ داروں کے خلاف آئین و قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔