قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے انہیں باضابطہ خط موصول ہوا ہے، جو انہوں نے حکومت تک پہنچا دیا ہے، تاہم ابھی تک اس خط پر حکومت کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرنا تھا، تاہم انہوں نے فی الحال یہ فیصلہ مؤخر کر دیا ہے، اس اقدام کو مثبت انداز میں دیکھنا چاہیے اور حکومت کو بھی معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ راولاکوٹ میں بڑی تعداد میں لوگ موجود ہیں اور ان کے تحفظات کو سننا ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مظاہرین کے مطالبات اور چارٹر آف ڈیمانڈ کا جائزہ لیا جائے، جبکہ کسی بھی احتجاج یا تقریر کی بنیاد پر حالات کو خراب نہیں ہونا چاہیے۔
جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ وہ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے مظفرآباد کی طرف ہونے والے مارچ کو مؤخر کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں، یہ فیصلہ بات چیت اور سیاسی حل کی جانب ایک موقع فراہم کرتا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے حکومت کے بعض بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں اشتعال انگیز گفتگو سے مسائل مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں، وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے دیے گئے بیانات حکومتی پالیسی کے بجائے ردعمل کے طور پر سامنے آئے، ایسے وقت میں تحمل اور بردباری کا مظاہرہ ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت مذاکرات کا راستہ اختیار کرتی ہے تو کشیدگی کم ہو سکتی ہے، جبکہ سخت بیانات سے فریقین کے درمیان فاصلے بڑھ سکتے ہیں، امن و امان برقرار رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور سیاسی معاملات کو سیاسی انداز میں ہی حل کیا جانا چاہیے۔
مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کو دباؤ میں لانے کی کوشش نہ کی جائے، جے یو آئی نے چارسدہ میں بڑا عوامی اجتماع کیا اور حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ سیاسی میدان میں عوامی حمایت کا مظاہرہ کرے۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی نے سیاسی رواداری کے کلچر کو برباد کر دیا: خواجہ آصف
ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں حالیہ دنوں کے دوران کئی جذباتی تقاریر ہوئی ہیں، لیکن موجودہ وقت اشتعال نہیں بلکہ حکمت، برداشت اور سیاسی تدبر کا تقاضا کرتا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان نے عالمی معاملات میں بھی اپنا مثبت کردار ثابت کیا ہے اور یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ملک پیچیدہ مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، قومی معاملات کو افہام و تفہیم اور مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھانا ہی بہتر راستہ ہے۔







