وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق مئی کے مہینے میں موصول ہونے والی ترسیلاتِ زر نہ صرف گزشتہ ماہ کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ رہیں بلکہ گزشتہ سال مئی کے مقابلے میں بھی دو ہندسوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اعداد و شمار کے مطابق ماہانہ بنیادوں پر ترسیلاتِ زر میں 20 فیصد سے زائد جبکہ سالانہ بنیادوں پر 15 فیصد سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم میں مسلسل اضافے نے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دیا ہے، جس کے نتیجے میں بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ میں کمی اور معاشی استحکام میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی گیارہ ماہ، یعنی جولائی 2025 سے مئی 2026 تک، پاکستان کو مجموعی طور پر 38.1 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر موصول ہوئیں۔ یہ رقم گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً 9 فیصد زیادہ ہے، جو اوورسیز پاکستانیوں کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور ملک کی معیشت کے ساتھ مضبوط تعلق کا مظہر سمجھی جا رہی ہے۔
وزیر خزانہ کے مشیر برائے اقتصادی امور خرم شہزاد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ترسیلاتِ زر میں یہ غیر معمولی اضافہ پاکستانی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔ ان کے مطابق بیرون ملک پاکستانیوں کا اعتماد ملکی اقتصادی پالیسیوں اور معاشی استحکام کی جانب بڑھتی ہوئی پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔
خرم شہزاد کا کہنا تھا کہ ترسیلاتِ زر میں مسلسل اضافے سے نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہوں گے بلکہ بیرونی شعبے کی کارکردگی بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مالی سال کے اختتام تک یہ مثبت رجحان برقرار رہا تو پاکستان پہلی مرتبہ سالانہ بنیادوں پر 41 ارب ڈالر سے زائد ترسیلاتِ زر حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کا ماحولیاتی بجٹ اور موسمیاتی بحران، کیا عالمی معاہدے پورے ہو پائیں گے؟
یاد رہے کہ ترسیلاتِ زر پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں اور موجودہ ریکارڈ اضافہ حکومت کے لیے معاشی اہداف کے حصول، کرنٹ اکاؤنٹ کے توازن اور روپے کی قدر کے استحکام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
واضح رہے کہ اگر آنے والے مہینوں میں بھی یہی رجحان برقرار رہا تو پاکستان کے بیرونی مالیاتی اشاریوں میں مزید بہتری متوقع ہے، جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ اور مجموعی معاشی سرگرمیوں کو فروغ مل سکتا ہے۔







