اپوزیشن جماعتوں کا اہم اجلاس اسلام آباد میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور ارکان پارلیمنٹ نے شرکت کی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال، آئینی معاملات، اپوزیشن کی آئندہ حکمت عملی اور حکومت کے ساتھ ممکنہ مذاکرات پر غور کیا گیا۔
اجلاس کے دوران تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی نے ایک قرارداد منظور کی، جس کے تحت پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اپوزیشن قیادت کو مذاکرات کیلئے مکمل مینڈیٹ دے دیا گیا۔
قرارداد میں کہا گیا کہ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس مذاکرات کے حوالے سے جو بھی فیصلہ کریں گے، وہ تمام اپوزیشن جماعتوں اور پارلیمانی پارٹی کو قبول ہوگا۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اپوزیشن نے آئین کے تحفظ اور جمہوری نظام کی بقا کیلئے متحد ہوکر آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اپنی سیاسی تحریک کو پُرامن انداز میں جاری رکھے گی اور کسی قسم کی اشتعال انگیزی یا غیر پارلیمانی زبان استعمال نہیں کی جائے گی۔
محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ ملک میں آئین کی بالادستی یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے اور اپوزیشن اسی مقصد کیلئے جدوجہد جاری رکھے گی۔
مزید پڑھیں: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے عمران خان کے کیسز کی سماعت کی تصدیق کردی
دوسری جانب چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی نے واضح طور پر یہ مؤقف اپنایا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو سیاسی عمل سے الگ رکھنے کا کوئی فارمولا قابل قبول نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں سیاسی استحکام اور جمہوری عمل کی بحالی چاہتی ہیں، تاہم اس کے لیے تمام فریقین کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ مذاکرات کا فیصلہ کمزوری نہیں بلکہ سیاسی بصیرت کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالنا ہے تو سیاسی قوتوں کے درمیان بات چیت ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو خود اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں آکر مذاکرات کا آغاز کرنا چاہیے تاکہ مسائل کا سیاسی حل نکالا جا سکے۔
واضح رہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مذاکرات کیلئے مشترکہ قیادت کو مکمل اختیار دینا ملکی سیاست میں اہم پیش رفت تصور کی جا رہی ہے، جبکہ آنے والے دنوں میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان باضابطہ مذاکرات کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔







