سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری کی گئی پوسٹ میں وفاقی وزیر نے افغانستان بھر میں اس آپریشن کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا خلاصہ پیش کیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جمعہ سے شروع ہونے والے اس آپریشن کے دوران اب تک طالبان کے 415 اہلکار ہلاک اور 580 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق فوجی حملوں میں 182 چیک پوسٹیں کامیابی سے تباہ کی گئی ہیں جبکہ مزید 31 پوسٹوں پر کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، 185 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانے تباہ کیے گئے ہیں۔ وفاقی وزیر نے تصدیق کی کہ افغانستان بھر میں 46 مقامات کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا، جس سے آپریشن کو مزید تقویت ملی ہے۔

یہ اعداد و شمار آپریشن غضبِ الحق کے ایک فیصلہ کن مرحلے کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان کی آپریشنل صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے لیے بھرپور اور مؤثر کارروائیاں جاری ہیں۔

 حکام کے مطابق پاکستان کے حملوں نے کابل اور قندھار سمیت طالبان کی اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جو اس خطے میں پاکستان کی سب سے بڑی سرحد پار فوجی پیش قدمی قرار دی جا رہی ہے۔

پاکستان کا موقف ہے کہ طالبان پاکستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان کو پناہ دے رہے ہیں، جو ملک میں دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دے رہی ہے۔ طالبان اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔ پاکستان اپنی کارروائیوں کو سرحد پار سے ہونے والے حملوں کے جواب میں قرار دیتا ہے، جب کہ کابل اسے اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی سمجھ کر مذمت کر چکا ہے۔