منگل کی صبح سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں انہوں نے بتایا کہ کابل میں دو مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جہاں ٹیکنیکل سپورٹ کے انفراسٹرکچر اور گولہ بارود کے ذخائر کو تباہ کیا گیا۔ ان کے مطابق حملوں کے بعد ہونے والے دھماکوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود موجود تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ننگرہار میں بھی طالبان حکومت کے ان ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جو دہشت گردی کے مقاصد کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔ ان کارروائیوں میں لاجسٹکس، گولہ بارود اور دیگر تکنیکی سہولیات کو تباہ کیا گیا۔

عطا اللہ تارڑ کے مطابق تمام اہداف کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا، جن میں وہ انفراسٹرکچر بھی شامل تھا جسے افغان طالبان اپنی پراکسی تنظیموں، بشمول فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان، کی مدد کے لیے استعمال کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ جاری کی گئی ویڈیو میں ان کارروائیوں کی تفصیلات واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہیں اور طالبان حکومت کے بیانات کو انہوں نے پروپیگنڈا اور بے بنیاد قرار دیا۔

بیان کے اختتام پر وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ آپریشن غضب للحق کے تحت دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک پاکستانی شہریوں کے تحفظ کے لیے مطلوبہ مقاصد مکمل طور پر حاصل نہیں ہو جاتے۔