سہیل آفریدی نے کہا کہ ایک بار پھر خیبر پختونخوا پر دہشت گردی مسلط کی جا رہی ہے اور جب یہ دہشت گردی لائی جا رہی تھی تو ہم نے اس وقت باقاعدہ سب کو آگاہ کیا تھا۔
صوبائی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ رجیم چینج کے بعد جب ان کے لیڈر کو حکمرانی سے ہٹایا گیا، تو اسی وقت انہوں نے سب کو آگاہ کیا تھا کہ ایک بار پھر لندن پلان کے تحت پختونوں کے خون کا سودا ہو چکا ہے اور دہشت گردوں کو خیبر پختونخوا میں بسایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے سب کو خبردار کیا، مگر موجودہ حکمرانوں کو لگا کہ ہم جھوٹ بول رہے ہیں اور ایسا کچھ نہیں ہو رہا۔ لیکن آج خیبر پختونخوا میں ایک بار پھر بعض علاقوں میں ملٹری آپریشن کے تحت لوگوں کو بے گھر کیا جا رہا ہے۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ جب ہم بتا رہے تھے کہ دہشت گرد پہاڑوں میں موجود ہیں اور اسی وقت ان کے خلاف کارروائی کی جاتی، تو آج وہ ہمارے بازاروں تک نہ پہنچ پاتے۔ جب وہ بازاروں تک پہنچ گئے تو ہم نے پھر کہا کہ یہ یہاں تک آ چکے ہیں، اگر تب بھی کوئی ایکشن لیا جاتا تو بدقسمتی سے وہ ہمارے گھروں تک نہ پہنچتے۔ اور جب وہ ہمارے گھروں تک آ گئے اور بندوق کی نوک پر ہم سے کھانا لے لیا، تو اب ملٹری والے آ کر پوچھتے ہیں کہ تم نے انہیں کھانا کیوں دیا؟
انہوں نے کہا کہ اگر ہم انہیں کھانا نہ دیں تو وہ ہماری قوم کو مار دیتے ہیں، اور اگر کھانا دے دیں تو صبح ہمارے اپنے آ کر ہمیں مارتے ہیں۔ تو بتائیں ہم کہاں جائیں؟ ہمیں جھوٹا کہا گیا، ہماری باتوں پر یقین نہیں کیا گیا۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ حکمران طبقے کو ہمارا خون پانی سے بھی سستا لگتا ہے۔ یہاں 14 ہزار انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اور 22 بڑے آپریشنز کے بعد بھی اگر امن قائم نہیں ہو سکا تو اس میں صوبائی حکومت، مذہبی جماعتوں یا سیاسی جماعتوں کا قصور نہیں، بلکہ یہ بند کمروں میں ہونے والے ان فیصلوں کا نتیجہ ہے جو پچھلے اٹھہتر سالوں سے اس ملک پر مسلط ہوتے آ رہے ہیں۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ پہلے مجھ پر سمگلر ہونے کا الزام لگایا گیا، پھر دہشت گرد ہونے کا۔ جب یہ دونوں بیانیے ناکام ہو گئے تو میرے علاقے میں آپریشن شروع کر دیا گیا۔ لیکن میں کبھی بھی اپنی قوم کے حق کے لیے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹوں گا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ طاقتوں نے پوری کوشش کی کہ میں اپنی قوم کی نظروں میں گر جاؤں، مگر جب میں وادی تیرہ گیا تو میرے لوگوں نے جس عزت اور پیار کا مظاہرہ کیا، اس سے لوگوں کو واضح ہو گیا کہ نہ یہ میرا قصور ہے اور نہ ہی عوام کا، بلکہ یہ لوگ بند کمروں میں ہونے والے فیصلوں کی وجہ سے بے گھر ہو رہے ہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ چار ارب روپے ہسپتالوں، سڑکوں اور ترقیاتی کاموں پر لگ سکتے تھے، مگر انہوں نے اس صوبے کو ایک لیبارٹری بنا رکھا ہے۔ ایک آتا ہے تجربہ کرتا ہے، پھر دوسرا آتا ہے اور نیا تجربہ کرتا ہے۔ مگر اس بار ایسا نہیں ہو گا۔ اگر بندوق کی نوک اور ڈنڈے کے زور پر کچھ مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو ان کا سامنا ہم سے ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ بند کمروں کے فیصلوں کا نتیجہ سامنے آ چکا ہے، کیونکہ اس شدید برف باری میں جبری انخلا کے بعد انہیں زبردستی ایک پریس ریلیز جاری کرنا پڑی، جو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان تصادم کا اعلان ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس پریس ریلیز کے ذریعے انہوں نے اپنے نمائندہ کور کمانڈر پشاور اور آئی جی ایف سی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے، کیونکہ یہ دونوں جرگوں اور 24 رکنی کمیٹی کا حصہ رہے ہیں۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ پہلے ہونے والے آپریشنز میں بھی وعدہ کیا گیا تھا کہ جن کے گھر تباہ ہوئے، انہیں چار لاکھ روپے دیے جائیں گے۔ یعنی ایک شخص جو ساری زندگی پیسے جوڑ کر گھر بناتا ہے، اسے ایک ڈرون یا جیٹ کے ذریعے تباہ کر کے اس کی محنت کو چار لاکھ روپے میں تول دیا جاتا ہے۔ یہ انتہائی شرمناک ہے۔ اس سے بھی زیادہ شرمناک بات یہ ہے کہ پندرہ سال گزرنے کے باوجود انہیں وہ رقم بھی نہیں ملی۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی وزیرستان کے کیمپوں میں رہنے والے لوگوں کو ماہانہ بنیادوں پر رقوم دینی تھیں، مگر وہ بھی وفاقی حکومت ادا نہیں کر رہی۔ یہ رقم ہم دے رہے ہیں اور اب تک سات ارب روپے ادا کر چکے ہیں۔ مجموعی طور پر وفاقی حکومت پر آئی ڈی پیز کے باون ارب روپے واجب الادا ہیں۔






