ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور نفرت انگیزی اب انفرادی عمل نہیں بلکہ ریاستی پالیسی کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ اجیت ڈوول کی انتقامی ڈاکٹرائن نے اس رجحان کو مزید واضح کیا ہے اور یہ پاکستان اور خطے کے لیے سنگین خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔

دی وائر کے مطابق اجیت ڈوول نے سومنات مندر کی ہزار سالہ تقریبات کے موقع پر نوجوانوں کو جنگ اور بدلے کی ذہنیت اپنانے کی ترغیب دی، یہ واضح کیا گیا کہ قومی سلامتی کی پالیسی اب انتقامی نظریات کے زیر اثر ہے، اور آپریشن سندور کو بھی اسی نقطہ نظر سے پیش کیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اجیت ڈوول کی انتقامی ڈاکٹرائن کا مقصد بھارت میں پر تشدد عناصر کی اجارہ داری قائم کرنا اور اقلیتوں پر انسانی جرائم کے سلسلے کو جاری رکھنا ہے۔ اس کا مقصد عوامی توجہ جمہوری زوال اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے ہٹانا بھی ہو سکتا ہے۔

پاکستان نے اپنے دفاع کے لیے مضبوط راکٹ فورس قائم کی ہوئی ہے، جبکہ بھارت کی عسکری پوزیشن نسبتاً کمزور ہے۔ آپریشن سندور سے واضح ہو گیا کہ بھارت پاکستان کو ایک طاقتور حریف کے طور پر دیکھتا ہے، اور اجیت ڈوول کا کہنا کہ جنگ کا مقصد مخالف حریف پر اپنی مرضی مسلط کرنا ہے، خطے میں جوہری تناؤ میں اضافہ کر سکتا ہے۔

کشمیر پالیسی میں بھی انتقام کی سوچ نمایاں ہے، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اجیت ڈوول کی انتقامی ڈاکٹرائن خطے میں مزید انتشار اور عدم استحکام پیدا کرے گی۔ بھارتی ریاستی ادارے شدت پسند نظریات کے زیر اثر کام کر رہے ہیں، جو نفرت اور انتہا پسندی کو ریاستی پالیسی میں بدلنے کا مظہر ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اجیت ڈوول کی تقریر سے بھارت میں موجود پر تشدد عناصر کی اجارہ داری مضبوط ہوگی، اور اس سے پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ اس تناظر میں خطے میں امن اور استحکام کے لیے محتاط اقدامات اور بین الاقوامی توجہ کی ضرورت ہے تاکہ اشتعال انگیز بیانات اور ریاستی پالیسیوں کے منفی اثرات کو محدود کیا جا سکے۔