وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق استنبول اجلاس میں پاکستان اس بات پر زور دے گا کہ جنگ بندی کے معاہدے پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے، اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا مقبوضہ فلسطینی علاقوں خصوصاً غزہ سے کیا جائے اور فلسطینی عوام تک انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی اور غزہ کی تعمیرِ نو کو فوری طور پر ممکن بنایا جائے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اجلاس میں یہ مؤقف بھی دہرائے گا کہ عالمی برادری کو مل کر ایک آزاد، خودمختار اور متصل فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے کوششیں تیز کرنا ہوں گی، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو اور جو 1967 سے قبل کی سرحدوں کے مطابق ہو، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور عرب امن منصوبے کے مطابق ہو۔

مزید پڑھیں: ای چالان عوام پر مالی بوجھ ڈالنے کا ایک ’ڈراما‘ ہے، حافظ نعیم الرحمان

جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے لیے امن، انصاف اور وقار کی بحالی کی حمایت کی ہے اور وہ ان کے حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

یاد رہے کہ پاکستان، سات دیگر عرب۔اسلامی ممالک کے ساتھ، اس امن اقدام کا حصہ رہا ہے، جس کے نتیجے میں شرم الشیخ میں غزہ امن معاہدہ طے پایا تھا۔