دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اسحاق ڈار اپنے دورے کے دوران چین کے شہر شنگھائی میں منعقد ہونے والی اہم بین الاقوامی تقریبات میں شریک ہوں گے، جہاں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی تعاون، ٹیکنالوجی کے فروغ اور مستقبل کی مشترکہ حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

بیان کے مطابق پاکستان اس موقع پر عالمی مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم کے بانی اراکین میں شامل ہوگا، جبکہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار پاکستان کی جانب سے تنظیم کے قیام سے متعلق معاہدے پر دستخط کریں گے۔ اس پیش رفت کو مصنوعی ذہانت کے شعبے میں پاکستان کی بین الاقوامی شمولیت اور عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے کردار کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار عالمی مصنوعی ذہانت کانفرنس 2026 کے مختلف سیشنز میں بھی شرکت کریں گے، جہاں دنیا بھر سے حکومتی نمائندے، پالیسی ساز، ٹیکنالوجی ماہرین، بین الاقوامی اداروں کے سربراہان اور نجی شعبے کے اعلیٰ عہدیداران مستقبل کی ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت کے ضابطہ کار، اختراعات اور عالمی تعاون پر اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔

دورے کے دوران نائب وزیراعظم کی مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ، اعلیٰ حکومتی شخصیات اور عالمی تنظیموں کے نمائندوں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔ ان ملاقاتوں میں پاکستان اور متعلقہ ممالک کے درمیان مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل معیشت، سرمایہ کاری، تعلیم، تحقیق اور تکنیکی تعاون کے فروغ سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار عالمی رہنماؤں کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں مصنوعی ذہانت کے محفوظ، شفاف، ذمہ دارانہ اور منصفانہ استعمال کی ضرورت پر بھی زور دیں گے، تاکہ جدید ٹیکنالوجی کے فوائد دنیا کے تمام ممالک، خصوصاً ترقی پذیر ریاستوں تک یکساں طور پر پہنچ سکیں۔

مزید پڑھیں: اسحاق ڈار سے شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرل کی ملاقات، علاقائی تعاون کے فروغ پر اتفاق

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے عالمی مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم کے بانی رکن کے طور پر شمولیت مستقبل میں جدید ٹیکنالوجی، تحقیق، اختراع اور ڈیجیٹل ترقی کے شعبوں میں بین الاقوامی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

واضح رہے کہ چین میں ہونے والی یہ عالمی کانفرنس نہ صرف مصنوعی ذہانت کے مستقبل کے حوالے سے اہم سمجھی جا رہی ہے بلکہ اس میں پاکستان کی فعال شرکت ملک کے ڈیجیٹل وژن، ٹیکنالوجی کے شعبے میں عالمی روابط اور بین الاقوامی سطح پر تعاون کو فروغ دینے کی کوششوں کا بھی مظہر ہے۔