نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس کے دوران دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور اہم بین الاقوامی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

گفتگو کے دوران کینیڈین وزیر خارجہ نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے پسِ پردہ رابطوں اور مذاکراتی ماحول کو سازگار بنانے میں مثبت کردار ادا کیا، جس کی عالمی سطح پر پذیرائی کی جا رہی ہے۔

انیتا آنند کا کہنا تھا کہ پاکستان کی متوازن سفارتکاری اور تعمیری کوششوں نے کشیدگی میں کمی لانے اور فریقین کے درمیان مفاہمت کی راہ ہموار کرنے میں مدد فراہم کی، جو خطے کے امن اور استحکام کے لیے خوش آئند پیشرفت ہے۔

ٹیلیفونک گفتگو کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں امریکا اور ایران کے درمیان متوقع مذاکرات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ سفارتی ذرائع اور مذاکرات ہی پیچیدہ تنازعات کے پائیدار حل کا بہترین راستہ ہیں۔

اسحاق ڈار نے پاکستان کے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہمیشہ خطے اور دنیا میں امن، استحکام اور مذاکرات کے فروغ کا حامی رہا ہے اور پاکستان آئندہ بھی مثبت سفارتی اقدامات کی حمایت جاری رکھے گا۔

گفتگو میں پاکستان اور کینیڈا کے دوطرفہ تعلقات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے سیاسی، اقتصادی، تجارتی اور عوامی روابط کے شعبوں میں حالیہ پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور تعلقات کو مزید مبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

مزید پڑھیں: پاکستان 30 ایرانی شہریوں کی وطن واپسی میں سہولت فراہم کرے گا، اسحاق ڈار

ذرائع کے مطابق فریقین نے تعلیم، سرمایہ کاری، موسمیاتی تبدیلی، ٹیکنالوجی اور تجارتی تعاون سمیت مختلف شعبوں میں روابط بڑھانے کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ باہمی تعاون کے نئے مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دوطرفہ شراکت داری کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔

واضح رہے کہ کینیڈا کی جانب سے پاکستان کے سفارتی کردار کا اعتراف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر مختلف تنازعات کے حل کے لیے سفارتکاری کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیشرفت بین الاقوامی معاملات میں پاکستان کے فعال اور متوازن کردار کی عکاسی کرتی ہے اور عالمی برادری میں اس کی سفارتی اہمیت کو مزید اجاگر کرتی ہے۔