وزارت خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے دونوں رہنماؤں سے گزشتہ شب مشترکہ ٹیلی فونک گفتگو کی اور انہیں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے حالیہ دفاعی معاہدے کے اہم نکات اور اس کے ممکنہ اثرات سے آگاہ کیا۔
نائب وزیراعظم نے گفتگو کے دوران معاہدے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کا مقصد اسٹریٹجک تعاون کو مزید مستحکم کرنا اور خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کے لیے مشترکہ کوششوں کو تقویت دینا ہے۔
اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ دفاعی اور اسٹریٹجک تعاون میں اضافہ خطے میں امن کے قیام اور باہمی سلامتی کے مفادات کے تحفظ میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔
ٹیلی فونک رابطے کے دوران نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور جمہوریہ کانگو کے صدر فیلکس تشیسکیدی نے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کا بھی جائزہ لیا۔
دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا اور پاکستان اور جمہوریہ کانگو کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔
اس موقع پر اعلیٰ سطح کے روابط کو فروغ دینے کو بھی اہم قرار دیا گیا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر گفتگو ہوئی۔
اسحاق ڈار نے صدر فیلکس تشیسکیدی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے جمہوریہ کانگو کے عوام کے لیے بھی خیرسگالی کا پیغام دیا۔
نائب وزیراعظم نے گنی بساؤ کے سابق صدر جنرل عمرو سیسوکو ایمبالو سے بھی گفتگو کی، جس میں انہیں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے تفصیلات فراہم کی گئیں
گفتگو کے دوران اسحاق ڈار نے معاہدے کے اسٹریٹجک پہلوؤں اور علاقائی امن و سلامتی کے حوالے سے اس کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
پاکستانی حکام کے مطابق ایسے اعلیٰ سطحی رابطوں کا مقصد خطے اور عالمی سطح پر اہم سفارتی و سلامتی کے معاملات پر دوست ممالک کو اعتماد میں لینا اور باہمی تعاون کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنا ہے۔
نائب وزیراعظم کی جانب سے دونوں رہنماؤں کو بریفنگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان علاقائی امن، اسٹریٹجک تعاون اور دوست ممالک کے ساتھ سفارتی روابط کو مزید مستحکم کرنے پر توجہ دے رہا ہے۔
ٹیلی فونک رابطوں میں باہمی دلچسپی کے امور پر رابطہ برقرار رکھنے اور دوطرفہ تعلقات کو مزید آگے بڑھانے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔







