نجی نشریاتی ادارے کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ افغان رجیم دہشتگردوں کی سہولت کاری اور سرپرستی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ افغانستان میں موجود دہشتگردوں کا اسٹرکچر تباہ کیا جائے گا، جبکہ پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے والے ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔
عطا اللہ تارڑ نے افغان سرزمین سے آنے والے ڈرونز سے متعلق کہا کہ افغان سرزمین سے پاکستان کی جانب ڈرون بھیجے گئے جنہیں پاکستان کے فضائی دفاعی نظام نے اہداف تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکارہ بنا دیا۔
ان کے مطابق پاکستان نے اپنے دفاع کے حق کو استعمال کرتے ہوئے افغانستان میں ڈرونز لانچ اور ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے 10 مقامات کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائیاں مخصوص فوجی اہداف تک محدود تھیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور ڈرون بنانے والی سائٹس سے متعلق ویڈیوز اور دیگر شواہد بھی شیئر کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کے پاس اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
عطا اللہ تارڑ نے واضح کیا کہ پاکستان افغان سرزمین سے ہونے والے حملوں کو قبول نہیں کرے گا اور اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور عوام کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ وہ گزشتہ دو روز سے خیبرپختونخوا کے دورے پر تھے، جہاں ان کے بقول انفراسٹرکچر، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں خاطر خواہ کام نہیں ہو رہا، جبکہ صوبائی حکومت کی جانب سے امن و امان پر بھی مناسب توجہ نہیں دی جا رہی۔
انہوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے لوگ دہشتگردوں کے خلاف بیان دینے سے بھی گریز کرتے ہیں۔ ان کے مطابق دہشتگرد حملے کے بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا صرف 20 منٹ کے لیے کوہاٹ گئے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں اس وقت حالات خراب ہیں اور صوبائی حکومت کو امن و امان کی صورتحال پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ حالیہ بیانات میں بھی انہوں نے صوبائی حکومت پر گورننس اور امن و امان کے معاملات میں توجہ نہ دینے کے الزامات عائد کیے ہیں۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کو تقریباً ساڑھے 13 سال ہو چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود پی ٹی آئی اسلام آباد پر چڑھائی کی باتیں کر رہی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف کا ہر احتجاج پرتشدد رہا ہے اور حالیہ دنوں میں غلیلوں سے بھرا ایک ٹرک بھی برآمد ہوا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے گزشتہ احتجاج کے دوران سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے، جبکہ ایک دن کے احتجاج سے ملک کو تقریباً 120 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ایسے حالات میں دھرنے دے کر پی ٹی آئی کیا ثابت کرنا چاہتی ہے؟
ان کا کہنا تھا کہ اگر احتجاج ریکارڈ کرانا مقصد ہے تو پشاور میں احتجاج کیا جا سکتا ہے، اسلام آباد میں توڑ پھوڑ کا کیا مقصد ہے؟ اسلام آباد میں پوری دنیا کے سفارتکار اور اہم سرکاری دفاتر موجود ہیں۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ حکومت شہریوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے گی اور ہر دوسرے دن احتجاج کی کال دینے کا کوئی جواز نہیں۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کا معاملہ عدالتوں کے ذریعے ہی حل ہوگا۔
وفاقی وزیر کے مطابق ایک روز کے احتجاج یا دھرنے سے کاروباری سرگرمیوں اور معمولات زندگی میں خلل پڑنے سے تقریباً 120 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پی ٹی آئی کو 6 مرتبہ مذاکرات کی دعوت دی، جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی 24 مرتبہ مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بات چیت سے راہ فرار تحریک انصاف نے اختیار کی اور اب پی ٹی آئی کو یہ بتانا چاہیے کہ پارٹی میں مذاکرات کا اختیار کس کے پاس ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت ان لوگوں سے بات چیت کرنا چاہتی ہے جو فیصلے کرنے اور ان پر عملدرآمد یقینی بنانے کا اختیار رکھتے ہوں۔
عطا اللہ تارڑ نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنے سے متعلق کوئی تجویز زیر غور نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ حکومتی رٹ قائم رکھی جائے اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ ان کے مطابق تحریک انصاف کے کچھ رہنماؤں سے بیک ڈور رابطے بھی رہتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورننس کو بہت بہتر کرنے کی ضرورت ہے، جبکہ صوبائی پولیس کو سیاسی فورس بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت تحریک انصاف کے احتجاج کے باعث امن و امان کی صورتحال خراب نہیں ہونے دے گی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔







