ملک گیر اجتماع کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اللہ کی توفیق سے جماعت اسلامی نے تاریخی جدوجہد کی ہے اور ہماری کوششوں اور محنت سے جماعت اسلامی کا تذکرہ ملک بھر میں ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اقامتِ دین کی تحریک ہے۔ زمین میں اپنی خدائی کا دعویٰ کرنے والے انسانیت کو دبا کر رکھتے ہیں، ایسے حالات میں مولانا مودودی نے اسلام کو اس کی اصل شکل میں پیش کیا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اسلام صرف مذہب نہیں بلکہ مکمل نظام ہے اور ہماری ذمہ داری ہے کہ دین کو غالب کریں، مغلوب نہ ہونے دیں۔
انہوں نے کہا کہ مولانا مودودی نے جماعت اسلامی قائم کی اور اسے تمام خرابیوں سے دور رکھا۔ اس وقت مذہب سے وابستہ افراد بھی باطل کے نظام سے وابستہ تھے، ایسے حالات میں قرآن و سنت کے وسیع مشاہدے کے بعد جماعت اسلامی قائم کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کا نظریہ اور عقیدہ پھیلتا گیا ہے۔ جماعت اسلامی کسی فقہ یا مسلک کی بنیاد پر بننے والی جماعت نہیں، ہم ہر مسلک اور ہر فرقے کی عزت کرتے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی نے جمہور اور رائے عامہ کے ذریعے نظام بدلنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ حالات کے مطابق مسائل کو اجاگر کیا جاتا ہے اور رائے عامہ ہموار کیے بغیر انقلاب نہیں لایا جاسکتا۔
انہوں نے کارکنان پر زور دیا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے عوام سے رابطہ بڑھائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم سنجیدہ اور بڑے کام کو لے کر اٹھنے والی جماعت ہیں، اگر عوام ہم سے جڑیں گے نہیں تو تبدیلی نہیں لاسکتے۔
انہوں نے کہا کہ مظلوموں کی مدد کرنی ہے اور جن لوگوں سے زیادتی ہو، ان کی آواز بننا ہے۔ جماعت اسلامی نے اپنی موجودہ حکمت عملی بناتے ہوئے اس میں ذرا بھی انحراف نہیں کیا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ہم بجلی، آئی پی پیز اور انسانیت کو دبانے والے مافیاز کو بے نقاب کرتے ہیں اور مافیا اور ظلم کی تمام شکلوں کو ایکسپوز کرنے کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کی جدوجہد سے پہلے لوگ آئی پی پیز کے بارے میں نہیں جانتے تھے۔ سیاسی جماعت کے لیے تمام اہداف حاصل کرنا ضروری نہیں ہوتا، سیاسی جماعتوں کا کام مسائل کی نشاندہی کرنا اور عوام کو پیغام دینا بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب ہم مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں تو ساتھ اپنا منشور بھی بتا رہے ہوتے ہیں۔ آئی پی پیز کے بارے میں بھی وزرا کہتے تھے کہ وہ ان سے بات نہیں کرسکتے۔
حافظ نعیم الرحمان نے دعویٰ کیا کہ آئی پی پیز کے خلاف جماعت اسلامی کی جدوجہد سے عوام کو ریلیف ملا۔ جب مسلسل دباؤ ڈالا گیا تو حکومت نے خود بتایا کہ 57 آئی پی پیز سے بات کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو آئی پی پیز سے بات کرنے سے 4 ہزار 500 ارب روپے کا فائدہ ہوا ہے۔ عوام کی ہمدردی سے نتائج حاصل ہوتے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پیٹرول کے مسئلے پر کوئی سیاسی جماعت آواز نہیں اٹھا رہی تھی۔ چند ماہ قبل لوگ پیٹرولیم لیوی کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے، لیکن ہم نے سمجھایا کہ لیوی کا پیٹرول کی قیمت سے کوئی تعلق نہیں، یہ جگا ٹیکس ہے۔
انہوں نے کہا کہ دھرنے آسان نہیں ہوتے، عوام کی محنت سے ہمارے دھرنے کامیاب ہوئے۔ جماعت اسلامی نے لاہور، کراچی، حیدرآباد، کرک، راولپنڈی سمیت کئی شہروں میں دھرنے دیے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اب روزانہ میڈیا پر پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کی باتیں ہوتی ہیں۔ جماعت اسلامی نے دھرنوں میں سود کے معاملے پر بھی بات کی اور حکومت سے مذاکرات میں سود کی شرح کم کرنے کا مطالبہ کیا۔
ان کے مطابق اگر پہلے مرحلے میں سود کی شرح 3 فیصد کم کردی جائے تو 1700 ارب روپے بچائے جاسکتے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ملک میں ایک مافیا اور کارٹیل ہے جس نے سیاست پر قبضہ کر رکھا ہے۔ بعض لوگ پروپیگنڈا کرتے ہیں، ان کا دین کا فہم ہی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک ہم مسائل کو اجاگر نہیں کریں گے، دعوت کا کام نہیں ہوسکتا۔ ہم قرآن و سنت کے مطابق جدوجہد کرتے ہیں اور فلسطین، کشمیر، جمہوری آزادی اور فارم 47 کی بھی بات کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تحریک مکمل طور پر رائے بناتی ہے اور اپنا پیغام لوگوں تک پہنچاتی ہے۔ ہم جو بھی کرتے ہیں، دین کی حدود و قیود میں رہ کر کرتے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ہم نے لوگوں کی رائے بدلی اور میڈیا کے موضوعات بھی بدلے، یہ ہماری جیت ہے۔ ہم اپنی حکمت عملی کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک کے حوالے سے کراچی میں ایک ایشو پر بولتے رہے، جبکہ نادرا کی نجی سوسائٹی کے بارے میں بھی مسائل اجاگر کیے۔ جماعت اسلامی کراچی میں سب سے طاقتور آواز بن گئی ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ آئی پی پیز اور پیٹرولیم لیوی ہماری محنت سے ہمارے ساتھ جڑ گئے ہیں۔ لوگ سمجھ گئے ہیں کہ جماعت اسلامی ان کے مسائل پر بات کرتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جماعت اسلامی نے 5 سے 7 ستمبر کے درمیان ایک سروے کیا، جس کے مطابق 40 فیصد سے زائد لوگوں کو اس بات کا علم ہوا کہ جماعت اسلامی پیٹرولیم لیوی کے بارے میں بات کررہی ہے۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ کارکنوں کی محنت سے جماعت اسلامی مین اسٹریم کے طور پر سامنے آئی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومتی اور اپوزیشن جماعتیں عوامی مسائل پر بات نہیں کرسکتیں، یہ سیاسی جماعتیں مافیاز کے ذریعے ہی چلتی ہیں اور ان کے جلسے بھی مافیاز ہی کرواتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں 100 سے زائد آئی پی پیز ہیں اور تمام حکومتوں نے مل کر آئی پی پیز کو فائدے پہنچائے۔ یہ جماعتیں آئی پی پیز کے خلاف ایک حد سے آگے نہیں جاسکتیں۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مافیا، ریفائنریز اور چینی مافیا بھی انہی جماعتوں میں ہوتے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ چند سیٹیں لینے کی چاہت انقلاب برپا نہیں کرسکتی۔ اگر عوام کو اعتماد میں لیا جائے تو سیٹیں خود چل کر آئیں گی۔
انہوں نے کہا کہ جاگیردار اور سرمایہ دار کبھی بھی تبدیلی نہیں لانا چاہتے، جبکہ جماعت اسلامی دینی فریضہ سمجھ کر جدوجہد کرتی ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی نے سڑکیں بند کیں، دھرنے دیے، جلسے کیے، ہڑتال کی اور لانگ مارچ بھی کیا، کیونکہ عوامی مسائل کے حل کے لیے مسلسل جدوجہد ضروری ہے۔







