چینی صدر شی جن پنگ اپنی اہلیہ پنگ لی یوان کے ہمراہ وائٹ ہاؤس پہنچے جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ نے ان کا فوجی بینڈ اور دونوں ممالک کے پرچموں کے ساتھ استقبال کیا۔

دونوں رہنماؤں نے مصافحہ کیا اور کیمروں کے سامنے تصاویر بنوائیں، جس کے بعد شی جن پنگ نے اپنے خطاب میں امریکا اور چین کے درمیان تعاون اور رابطوں کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔

شی جن پنگ نے کہا کہ چین اور امریکا دونوں عظیم ممالک اور عظیم عوام رکھتے ہیں، وہ ٹرمپ کے ساتھ دوستی جاری رکھنے، تعاون کو وسعت دینے اور دونوں ممالک کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چین اور امریکا کے درمیان کھلے، گہرے اور مسلسل مذاکرات سے ایک دوسرے کو بہتر طور پر سمجھنے، اختلافات کے باوجود مشترکہ نکات تلاش کرنے اور باہمی اعتماد بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔

چینی صدر نے کہا کہ دونوں ممالک کے مفادات ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں اور دنیا کے بہت سے مسائل کو امریکا اور چین کے تعاون کے بغیر حل کرنا مشکل ہوگا۔

شی جن پنگ نے خبردار کیا کہ دونوں ممالک کو تنازع اور محاذ آرائی سے بچنا چاہیے، امریکا اور چین تعاون سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جب کہ تنازع دونوں کے لیے نقصان دہ ہوگا۔

انہوں نے دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان باقاعدہ رابطے اور بحران سے بچاؤ کے طریقہ کار کو بہتر بنانے پر بھی زور دیا۔

شی جن پنگ نے ’تھوسی ڈائڈیز ٹریپ‘ سے بچنے کی ضرورت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور چین کے درمیان مناسب رابطوں اور باہمی اعتماد کے ذریعے اس خطرے پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ اس اصطلاح سے مراد عموماً اس صورتحال کو بیان کرنا ہے جب ایک ابھرتی ہوئی طاقت اور موجودہ بڑی طاقت کے درمیان بڑھتی مسابقت کشیدگی اور تصادم کا خطرہ پیدا کردے۔

چینی صدر نے مصنوعی ذہانت کے معاملے پر بھی امریکا کے ساتھ تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور چین مصنوعی ذہانت کے میدان میں نمایاں صلاحیت رکھتے ہیں اور دونوں ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو انسانوں کی فلاح کے لیے استعمال کیا جائے اور اس کی ترقی انسانی نگرانی میں رہے۔

شی جن پنگ نے مزید کہا کہ چین امریکی کمپنیوں کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھتا ہے اور امید ہے کہ امریکا میں چینی کمپنیوں کے ساتھ بھی منصفانہ برتاؤ کیا جائے گا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شی جن پنگ کے ساتھ اپنے تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہیں امریکا اور چین کے تعلقات پر فخر ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے دونوں ممالک کو درپیش مسائل پر نمایاں پیش رفت کی ہے اور وہ ایک زیادہ متوازن تجارتی تعلقات کے لیے کام کر رہے ہیں۔

امریکی صدر نے کہا کہ اس میں امریکی کسانوں اور مویشی پالنے والوں کے لیے چین میں نئی منڈیوں تک رسائی بھی شامل ہے۔ ملاقات میں تجارت کے علاوہ سکیورٹی، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت جیسے معاملات بھی زیر بحث آئیں گے۔

دونوں رہنماؤں کی ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکا اور چین کے درمیان تجارت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مسابقت برقرار ہے، جب کہ دونوں ممالک نے گزشتہ تجارتی کشیدگی کے بعد تعلقات کو مستحکم رکھنے کے لیے رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

شی جن پنگ نے امریکا کے دورے کے دوران اگلے پانچ برس میں ایک لاکھ امریکی طلبہ کو چین کے دوروں اور تعلیمی تبادلے کی دعوت بھی دی، جب کہ چین کی جانب سے دو پانڈا اٹلانٹا کے چڑیا گھر منتقل کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔

وائٹ ہاؤس میں دونوں رہنماؤں کے استقبال کے موقع پر چین کے حامی اور مخالف مظاہرین بھی موجود تھے، تاہم دونوں گروہوں کو الگ رکھا گیا اور کسی تصادم کی اطلاع نہیں ملی۔

ملاقات کے بعد ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان مزید تفصیلی بات چیت جاری رہی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان موجود تجارتی جنگ بندی، مصنوعی ذہانت، تائیوان اور دیگر عالمی معاملات پر گفتگو متوقع ہے۔