سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں سہیل آفریدی نے کہا کہ وفاقی حکومت عوامی طاقت سے خوفزدہ ہے، اسی لیے راستوں پر کنٹینرز لگائے جا رہے ہیں۔ حکومت نے اگر رکاوٹیں کھڑی نہ کیں تو بڑی تعداد میں لوگ اسلام آباد پہنچیں گے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے وفاقی حکومت اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے اس بیان پر بھی سوال اٹھایا کہ انہیں انڈیا سے خطرہ نہیں بلکہ تین صوبوں سے خطرہ ہے۔
سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف اور بانی پی ٹی آئی عمران خان ملک میں قومی یکجہتی کی علامت ہیں اور جماعت کی موجودگی خیبرپختونخوا، بلوچستان، سندھ، گلگت بلتستان اور کشمیر سمیت مختلف علاقوں میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اندرون سندھ میں انہوں نے پی ٹی آئی کے لیے عوامی جذبہ دیکھا ہے اور دعویٰ کیا کہ سندھ میں آئندہ 20 برسوں تک عمران خان کی مقبولیت برقرار رہے گی۔
وزیراعلیٰ نے اپنے سیاسی سفر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ 14 نومبر 2007 کو پنجاب یونیورسٹی سے عمران خان کی گرفتاری کے بعد ہونے والے احتجاج سے لے کر آج تک مزاحمتی سیاست کا حصہ ہیں۔ ان کے مطابق عمران خان نے کارکنوں کو چیلنجز کا سامنا کرنے اور کوشش جاری رکھنے کا درس دیا ہے۔
سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت پر آئین، قانون اور جمہوری اقدار کی خلاف ورزی کے الزامات بھی عائد کیے اور کہا کہ تحریک انصاف کو مختلف سیاسی اور انتظامی دباؤ کا سامنا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے خیبرپختونخوا، سندھ اور پنجاب میں ہونے والی احتجاجی سرگرمیاں پرامن رہی ہیں اور کہا کہ عوامی طاقت سے حکومت خوفزدہ ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ اگر حکومت نے پی ٹی آئی کے ارکانِ اسمبلی یا وزرا کو گرفتار یا حراست میں لینے کی کوشش کی تو پارٹی نے پلان بی بھی تیار کر رکھا ہے۔ اس حوالے سے ویڈیوز بھی موجود ہیں جو مناسب وقت پر سامنے لائی جائیں گی۔
مزید پڑھیں: لانگ مارچ مؤخر کیے جانے تک پی ٹی آئی سے مذاکرات نہیں ہوسکتے، رانا ثنااللہ
سہیل آفریدی نے کہا کہ حکومت کسی بھی طریقے سے تحریک انصاف کی سیاسی سرگرمیوں کو نہیں روک سکتی۔ عمران خان کے کارکن کسی ’فکس میچ‘ کا حصہ نہیں بنیں گے اور سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
واضح رہے کہ سہیل آفریدی اس سے قبل بھی اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کے لیے بڑی تعداد میں کارکن لانے کا دعویٰ کر چکے ہیں۔ اگست میں انہوں نے کہا تھا کہ 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کیا جائے گا۔







