خالد حسین باٹھ نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ کسان اتحاد جمعہ کو سہ پہر 3 بجے کوئٹہ پریس کلب سے اسلام آباد کی جانب احتجاجی لانگ مارچ شروع کرے گا۔ ان کے مطابق احتجاج میں شرکت کے لیے 20 اضلاع کی تنظیمیں پہنچ چکی ہیں اور کسان اپنے مسائل کے حل کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔ کسان اتحاد نے بھی 25 ستمبر کو اسلام آباد میں احتجاج کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کسانوں کے مطالبات تسلیم کرلے تو احتجاج نہیں کیا جائے گا، تاہم ان کا سب سے بڑا مطالبہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا استعفیٰ ہے۔ ان کے مطابق پنجاب حکومت نے گندم کے معاملے پر کمیٹی تو بنائی تھی، لیکن گندم کی آئندہ کاشت کے حوالے سے اب تک کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا۔

خالد حسین باٹھ نے دعویٰ کیا کہ شوگر ملز مالکان کسانوں کو سابقہ ادائیگیاں نہیں کر رہے، جبکہ کوئٹہ میں کسانوں کو کھاد بھی دستیاب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ چاروں صوبوں سے کسان احتجاج میں شریک ہوں گے۔

کسان اتحاد کے چیئرمین نے کہا کہ مریم نواز کی ناقص زرعی پالیسیوں کے باعث چاروں صوبوں میں زراعت کی صورتحال خراب ہے۔ ان کے مطابق کسان کوئٹہ سے سکھر جائیں گے اور اس کے بعد پنجاب کی جانب بڑھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے استعفے کے مطالبے سے بڑا کوئی اور مطالبہ نہیں ہے۔ ان کے بقول کسان پُرامن احتجاج کے لیے اسلام آباد پہنچ رہے ہیں اور اپنے آئینی و قانونی حق کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔

خالد حسین باٹھ نے دعویٰ کیا کہ پنجاب میں کسانوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ سے بڑی تعداد میں کسان جب اسلام آباد کی جانب روانہ ہوں گے تو انہیں روکنا ممکن نہیں ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے کئی علاقوں میں پینے کا پانی بھی دستیاب نہیں، جب کہ آٹے کی عدم دستیابی کا مسئلہ بھی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسان اپنے حق کے لیے نکل رہے ہیں اور اپنے مطالبات کے حصول کے لیے آئینی و قانونی راستہ اختیار کریں گے۔

خالد حسین باٹھ نے کہا کہ بلوچستان اور سندھ میں اکتوبر جبکہ پنجاب میں نومبر سے گندم کی کاشت شروع ہوتی ہے، لیکن اب تک کسی صوبائی حکومت نے گندم کی خریداری کی پالیسی نہیں بنائی۔

ان کے مطابق گزشتہ تین سال سے کسانوں سے گندم پیداواری لاگت سے بھی کم قیمت پر خریدی جا رہی ہے، جس کے باعث کسانوں نے گندم کی کاشت کم کردی ہے۔ کسان اتحاد کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں پاکستان کو گندم درآمد کرنا پڑ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو 7 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن گندم درآمد کرنا پڑ رہی ہے، جبکہ حکومت بیرون ملک سے گندم تقریباً 5 ہزار 500 روپے فی من کے حساب سے خرید رہی ہے۔ ان کے مطابق اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو گندم کی درآمد 35 سے 40 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ سکتی ہے۔

خالد حسین باٹھ نے کہا کہ مقامی کاشتکار کے لیے گندم کی فی من پیداواری لاگت تقریباً 4 ہزار 500 روپے ہے، اس لیے کسان کو پیداواری لاگت کے ساتھ 20 فیصد منافع شامل کرکے گندم کی قیمت دی جانی چاہیے۔

کسان اتحاد کے چیئرمین نے آئندہ سیزن کے لیے گنے کی سپورٹ پرائس 650 روپے فی من مقرر کرنے اور اس کا بروقت اعلان کرنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ کسانوں کے سابقہ واجبات بھی فوری ادا کیے جائیں اور کرشنگ سیزن نومبر سے شروع کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسانوں کو ڈیزل پر بھی فیول ریلیف دیا جائے کیونکہ زرعی مشینری اور ٹریکٹروں کے لیے ڈیزل بنیادی ضرورت ہے۔

خالد حسین باٹھ نے کہا کہ اگر گنے کی سپورٹ پرائس کا بروقت اعلان نہ کیا گیا اور کسانوں کو مطلوبہ قیمت نہ ملی تو کسان شوگر ملز کے خلاف بھی احتجاج کریں گے۔

خالد حسین باٹھ نے کسان اتحاد پنجاب کے جنرل سیکریٹری ملک یاسین اور دیگر ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کسان اپنے حقوق کے لیے آئینی اور قانونی راستہ اختیار کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی کسان تنظیموں سے مشاورت جاری ہے۔ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو 25 ستمبر کو ملک بھر سے کسان اسلام آباد پہنچ کر پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے بھرپور احتجاج کریں گے۔

کسان اتحاد کے چیئرمین نے کہا کہ کسان حکومت سے کسی اختیار یا اقتدار کا مطالبہ نہیں کر رہے بلکہ اپنے حقوق اور زرعی مسائل کے حل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ کسان اتحاد نے 16 ستمبر کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران بھی اعلان کیا تھا کہ مطالبات حل نہ ہوئے تو 25 ستمبر کو اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج کیا جائے گا۔