دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے مصری وزیر خارجہ کا پرتپاک استقبال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مصر کے ساتھ دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے، جو مشترکہ تاریخ، مذہبی ہم آہنگی اور علاقائی و عالمی امور میں تعاون پر مبنی ہیں۔

ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا اور حالیہ اعلیٰ سطحی رابطوں، خصوصاً نومبر 2025 میں ہونے والے دورے کے مثبت نتائج پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے مختلف شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

فریقین نے تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مشترکہ وزارتی کمیشن اور کاروباری روابط کو فعال بنانے پر اتفاق کیا۔ اس موقع پر اسحاق ڈار نے ہیپاٹائٹس سی کے خلاف اقدامات میں مصر کے تعاون کو سراہا۔

دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں بھی تعاون کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا، جبکہ تربیتی تبادلوں اور ادارہ جاتی روابط کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔

علاقائی اور عالمی صورتحال پر گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ تنازعات کا حل بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔ اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کی، اور انسانی امداد کی فراہمی میں مصر کے کردار کو سراہا۔

دونوں ممالک نے اقوام متحدہ اور او آئی سی جیسے فورمز پر قریبی تعاون جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔

بعد ازاں ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان بھی دفتر خارجہ پہنچے، جہاں اسحاق ڈار نے ان کا استقبال کیا۔ ترجمان کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور خطے کی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ ملاقاتیں حالیہ سفارتی روابط کا تسلسل ہیں اور خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کے فعال کردار کی عکاسی کرتی ہیں۔