ترجمان اسلام آباد پولیس نے کہا ہے کہ ایس پی ’آئی نائن‘ عدیل اکبر کانسٹیٹیوشن ایونیو سے اپنے دفتر کی طرف جا رہے تھے کہ راستے میں اپنی ہی گاڑی کے اندر فائر لگنے سے ہلاک ہو گئے ہیں۔ ترجمان کے مطابق اس مقدمے میں مزید تفتیش جاری ہے۔
انسپکٹر جنرل اسلام آباد پولیس علی ناصر رضوی نے کہا ہے کہ یہ واقعہ دن ساڑھے چار بجے کانسٹیٹیوشن ایونیو پر پیش آیا ہے۔
علی ناصر رضوی کے مطابق سیف سٹی کی فوٹیج میں کوئی واقعہ سامنے نہیں آیا اور یہ واقعہ گاڑی کےاندر ہی ہوا ہے۔
آئی جی کے مطابق ایس پی کے پاس جو فون تھا وہ لاک ہے اس کا بھی فرانزک کیا جائے گا۔
وزیرمملکت برائے وزارت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور تحقیقات کے بعد ہی کوئی حتمی چیزیں بتائیں گے۔
اس سے قبل پولیس ذرائع کے مطابق ایس پی عدیل اکبر نے ایک فون کال موصول ہونے کے بعد اپنے گن مین سے پستول لے کر خود کو گولی مار لی۔
واقعہ پیش آنے پر ایس پی عدیل اکبر کے گن مین سمیت موقع پر موجود دیگر اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق افسر نے سینے پر گولی ماری، انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے۔
پمز اسپتال میں ایس پی آئی نائن عدیل اکبر کا پوسٹ مارٹم کرایا گیا، جس کے دوران آئی جی اسلام آباد پولیس علی ناصر رضوی خود موجود رہے اور ڈاکٹروں سے تمام تفصیلات حاصل کیں۔
ذرائع کے مطابق ایس پی عدیل اکبر اس سے قبل بلوچستان میں تعینات تھے۔ وہ 46ویں کامن کے افسر اور تعلق کے لحاظ سے کامونکی کے رہائشی تھے۔
اسلام آباد پولیس لائنز میں مرحوم کی نمازِ جنازہ ادا کرنے کے بعد ان کی میت کو سرکاری اعزاز کے ساتھ آبائی علاقے سیالکوٹ روانہ کیا جائے گا۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے خون آلود یونیفارم، پستول اور دیگر شواہد تحویل میں لے لیے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پستول کے فنگر پرنٹس حاصل کرکے نادرا سے تصدیق کرائی جائے گی، جب کہ ایس پی کے جسم سے حاصل کیے گئے نمونوں کی رپورٹس بھی تفتیش کا حصہ بنائی جائیں گی۔
تحقیقات میں یہ نکتہ اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ ایس پی عدیل اکبر کو آخری فون کال کس نے کی اور اس میں کیا بات ہوئی۔ ذرائع کے مطابق اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی ٹیم نے آخری کال کی وائس ریکارڈنگ حاصل کرلی ہے، جب کہ موبائل فون کا مکمل ڈیٹا بھی جمع کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خودکشی کرنے سے چند گھنٹے قبل ایس پی عدیل اکبر معمول کی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے۔






