نجی نشریاتی ادارے ایکسپریس نیوز کے مطابق جسٹس انعام امین منہاس نے تحریری فیصلے میں کہا کہ خاکروب کی آسامیوں کے اشتہارات میں صرف مسیحی یا صرف کرسچن لکھنا امتیازی سلوک ہے اور یہ آئین کے بنیادی حقوق کے منافی ہے۔
عدالت نے ایسے تمام اشتہارات پر مکمل پابندی عائد کرتے ہوئے حکم دیا کہ آئندہ بھرتیوں کے اشتہارات میں مذہب کی بنیاد پر تخصیص کرنے کے بجائے صرف شہری لکھا جائے۔
عدالت نے فیصلے میں سیوریج ورکرز کے کام کی نوعیت اور جان کو لاحق شدید خطرات پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ سیوریج ورکرز کو زہریلی گیسوں اور خطرناک ماحول میں بغیر حفاظتی سامان، تربیت اور مناسب سہولیات کے بھیج دینا سنگین غفلت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شواہد اور گواہوں کے بغیر کسی بھی ملازم کو برطرف کرنا انصاف کے بنیادی تقاضوں کے منافی ہے، سپریم کورٹ
عدالت نے قرار دیا کہ سیوریج ورکرز مشینی پرزے نہیں، انسان ہیں، ان کی زندگی اور صحت کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
ملک بھر میں سیوریج ورکرز کی ہلاکتوں میں اضافے پر بھی عدالت نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تحفظ کے لیے جامع اقدامات کرنے کا حکم دیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ سیوریج ورکرز کی حفاظت کے لیے ضروری حفاظتی کٹس، تربیت، ایمرجنسی رسپانس سسٹم، اور کام کے محفوظ طریقہ کار کو یقینی بنایا جائے۔
عدالت نے حکم دیا کہ تمام محکمے دو ماہ کے اندر تفصیلی عمل درآمد رپورٹ ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل کے پاس جمع کرائیں۔






