ذرائع کے مطابق دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی، جس کے نتیجے میں گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور قریب کھڑی دیگر گاڑیاں بھی آگ کی لپیٹ میں آگئیں۔
پولیس کا کہناہےکہ دھماکا خودکش تھا اور جائے وقوعہ سے مبینہ خودکش حملہ آور کا سر بھی ملا ہے۔
زخمیوں میں وکلا اور سائلین شامل ہیں، جنہیں فوری طور پر پمز اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ کو سیل کر دیا ہے اور سیکٹر میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکے میں ہندوستانی اسپانسرڈ اور افغان طالبان کی پراکسی فتنہ الخوارج ملوث ہیں۔ دھماکے کے وقت کچہری ایریا میں لوگوں کی آمدورفت زیادہ تھی، جس کی وجہ سے متعدد سائلین بھی زخمی ہوئے۔
دھماکے کے بعد جوڈیشل کمپلیکس کی عمارت کو خالی کروا دیا گیا اور وکلا، ججز اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی فوری طور پر ضلع کچہری پہنچ گئے اور آئی جی اسلام آباد پولیس سے تفصیلی بریفنگ لی۔
مزید پڑھیں:اگرافغان حکومت ٹی ٹی پی کے خلاف مؤثر کارروائی کرے تو پاکستان تعاون کے لیے تیار ہے، شہباز شریف
ذرائع کے مطابق پولیس اور ریسکیو اہلکار جائے وقوعہ پر موجود ہیں اور زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے جب کہ تحقیقات بھی تیز کر دی گئی ہیں۔
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد جی الیون کچہری کے باہر دھماکے کے مقام کا دورہ کیا اور سیکیورٹی فورسز کو سرچ آپریشن جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ آئی جی اسلام آباد پولیس علی ناصر رضوی نے وزیرِ داخلہ کو دھماکے اور جاری تحقیقات پر تفصیلی بریفنگ دی۔
Interior Mohsin Naqvi says identity of the suicide bomber not known. At least 12 martyred, over two dozen injured in Islamabad suicide blast. pic.twitter.com/CY1uoxQObK
— Murtaza Ali Shah (@MurtazaViews) November 11, 2025
اس موقع پر چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا سمیت اعلیٰ پولیس حکام بھی موجود تھے۔ وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے انڈین سپانسرڈ اور افغان طالبان کی پراکسی فتنہ الخوارج کے خودکش دھماکے کی شدید مذمت کی۔
انہوں نے واقعے میں جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی و تعزیت کی۔
محسن نقوی نےمیڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ 12بج کہ 39منٹ پر اسلام آباد کچہری پر خود کش حملہ ہوا، جس میں 12 افراد شہید، جب کہ27 زخمی ہوئے۔ واقعے کی جامع تحقیقات کرکے رپورٹ جلد پیش کی جائے اور دھماکے کے ذمہ داروں کی فوری گرفتاری یقینی بنائی جائے۔
دوسری جانب صدر مملکت آصف علی زرداری نے اسلام آباد میں ہونے والے خودکش دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔صدر زرداری نے واقعے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی۔
صدر زرداری نے کہا کہ دہشتگرد عناصر پاکستان کے امن و استحکام کے دشمن ہیں اور بیرونی پشت پناہی میں سرگرم دہشتگردوں کا مکمل خاتمہ ضروری ہے۔







