پولیس ذرائع کے مطابق، مشتبہ افراد کو راولپنڈی کے مختلف علاقوں فوجی کالونی (پیرودھائی)، ڈھوک کشمیریان اور خیبر پختونخوا میں کی گئی کارروائیوں کے دوران حراست میں لیا گیا ہے۔

سی ٹی ڈی کے ایک اہلکار نے عالمی خبررساں ادارے بی بی سی کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ گرفتاریاں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے ذریعے کی گئیں، جن میں سیف سٹی کیمروں کی فوٹیجز اور مصنوعی ذہانت سے حاصل شواہد کی مدد لی گئی۔

اہلکار کے مطابق، زیرِ حراست افراد میں وہ ملزمان بھی شامل ہیں جن پر خودکش حملہ آور کو سہولت فراہم کرنے کا شبہ ہے۔

تمام گرفتار افراد پاکستانی شہری ہیں اور ان کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا سے بتایا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ملزمان سے تفتیش جاری ہے۔

واضح رہے کہ وزیرِ مملکت طلال چوہدری نے گزشتہ روز دعویٰ کیا تھا کہ اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس کے باہر ہونے والے خودکش حملے میں ملوث حملہ آور کا تعلق افغانستان سے ہے۔

وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے بھی پارلیمنٹ ہاؤس میں گفتگو کے دوران کہا کہ وانا اور اسلام آباد میں ہونے والے خودکش حملہ آوروں کا تعلق افغانستان سے ہے۔

ایک سوال کے جواب میں محسن نقوی نے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ افغانستان سے پاکستان پر حملے ہوں اور ہم خاموش بیٹھے رہیں، افغانستان میں کاروائی کے بارے میں فیصلہ وفاقی حکومت کرے گی۔

یاد رہے کہ 11 نومبر کو اسلام آباد کچہری کے باہر ہونے والے خودکش دھماکے میں 12 افراد شہید اور دو درجن سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

واقعے کا مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ سمیت دیگر دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔

گزشتہ روز تفتیش کاروں نے ایک آن لائن بائیک رائیڈر کو بھی گرفتار کیا تھا جس نے خودکش حملہ آور کو گولڑہ موڑ سے جی-11 کچہری تک پہنچایا تھا۔

ذرائع کے مطابق، رائیڈر نے حملہ آور کو 200 روپے میں منزل تک پہنچایا، جسے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے شناخت کر کے ٹریس کیا گیا۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب اسلام آباد میں انٹر پارلیمنٹری اسپیکرز کانفرنس اور مارگلہ ڈائیلاگ جیسی بین الاقوامی تقریبات جاری تھیں، جب کہ راولپنڈی میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان کرکٹ میچ بھی کھیلا جا رہا تھا۔