ترجمان دفتر خارجہ پاکستان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانا نہایت تشویشناک ہے اور یہ حملے نہ صرف اہم اقتصادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہیں بلکہ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
ان حملوں کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر پاکستان کو گہرا دکھ اور افسوس ہے، اور حکومتِ پاکستان متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کی شریک ہے۔
ترجمان کے مطابق توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا عالمی معیشت کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے، کیونکہ اس سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے، جو بین الاقوامی منڈیوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔
پاکستان نے واضح کیا کہ ایسے حملے کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں اور یہ سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ حالیہ حملوں کے بعد خلیجی ممالک میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور خطے میں مجموعی طور پر کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جو امن کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔
حکومتِ پاکستان نے اس موقع پر سعودی عرب کے ساتھ اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور ہر سطح پر تعاون جاری رکھے گا۔
ماہرین کے مطابق اس قسم کے حملے نہ صرف علاقائی سلامتی کو متاثر کرتے ہیں بلکہ عالمی توانائی مارکیٹ میں بھی غیر یقینی صورتحال پیدا کرتے ہیں، جس کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔







