امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سیاسیات، فلسفے اور قانون کے پس منظر کے حامل ہیں۔ وکالت سے شہرت حاصل کرنے کے بعد وہ 2022 میں سینیٹر اور 2025 میں نائب صدر بنے، اور امریکی داخلی و عالمی طاقت کے توازن پر گہری نظر رکھتے ہیں۔
امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹیکوف ایک کامیاب ریئل اسٹیٹ سرمایہ کار اور سابق وکیل ہیں، جو 2025 میں مشرقِ وسطیٰ کے لیے مقرر ہوئے۔ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں اور پیچیدہ عالمی تنازعات، خصوصاً اسرائیل حماس اور روس یوکرین معاملات میں فعال کردار ادا کر چکے ہیں۔
جیریڈ کشنر جو ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور سابق مشیر رہ چکے ہیں، قانون اور بزنس ایڈمنسٹریشن کے ماہر ہیں۔ وہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے اہم سفارتی پیشرفت، خصوصاً ابراہیمی معاہدوں، میں کلیدی کردار ادا کرنے کے باعث عالمی سطح پر جانے جاتے ہیں۔
ایران کی نمائندگی باقر قالیباف کر رہے ہیں، جو پولیٹیکل جغرافیہ میں پی ایچ ڈی کے حامل، سابق میئر تہران اور موجودہ اسپیکر ہیں۔ ان کا عسکری اور انتظامی تجربہ مذاکرات میں اہمیت رکھتا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بین الاقوامی تعلقات کے ماہر اور تجربہ کار سفارتکار ہیں، جو طویل عرصے سے وزارت خارجہ کے پالیسی و تحقیقی امور سے وابستہ رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ان پانچوں شخصیات کی موجودگی اسلام آباد مذاکرات کو غیر معمولی اہمیت دیتی ہے، جہاں ممکنہ طور پر خطے کے مستقبل، عالمی تعلقات اور امن کی نئی جہتوں کا تعین کیا جا سکتا ہے۔







