اہلِ خانہ کے مطابق والدین کے اکلوتے بیٹے فرخ افضل کو گزشتہ رات گھر کے باہر سے اغوا کیا گیا۔ والد کا کہنا ہے کہ شور و غل کی آواز سن کر وہ باہر نکلے تو دیکھا کہ چار سے پانچ نامعلوم افراد ان کے بیٹے کو زبردستی گاڑی میں ڈال رہے تھے۔
والد کے مطابق انہوں نے اور محلے داروں نے مل کر بیٹے کو چھڑوانے کی کوشش کی، تاہم اغوا کاروں نے فائرنگ شروع کر دی۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ واقعے کے فوراً بعد انہوں نے ون فائیو پر کال کر کے اسلام آباد پولیس کو اطلاع دے دی تھی۔
بعد ازاں پولیس کی جانب سے اطلاع دی گئی کہ فرخ افضل کی لاش صوابی کے ایک اسپتال میں موجود ہے۔ اہلِ خانہ کے مطابق لاش پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔
واقعے کے بعد تھانہ کوہسار پولیس اور مقتول کے والد لاش وصول کرنے کے لیے صوابی روانہ ہو گئے ہیں، جب کہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔







