تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں فلائٹ آپریشن کا آغاز 18 اپریل سے ہو رہا ہے، تاہم اسلام آباد کے لیے 19 اپریل کا دن خصوصی اہمیت رکھتا ہے، جہاں سے ہزاروں عازمین ایک منفرد اور ڈیجیٹل سفری تجربے کے ساتھ اپنے سفر کا آغاز کریں گے۔

وزارت مذہبی امور کے ترجمان کے مطابق اسلام آباد سے روانہ ہونے والے پہلے قافلے کو الوداع کہنے کے لیے ایئرپورٹ پر ایک خصوصی تقریب منعقد کی جائے گی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف، پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف سعید المالکی اور سیکرٹری وزارت مذہبی امور عازمین کو رخصت کریں گے۔

یہ تقریب پاک سعودی برادرانہ تعلقات اور عازمین کو فراہم کی جانے والی عالمی معیار کی سہولیات کی عکاسی کرے گی۔ رواں سال اسلام آباد سے 129 پروازوں کے ذریعے 29 ہزار 900 عازمین حج روٹ ٹو مکہ کے تحت ڈبل امیگریشن (پاکستانی اور سعودی) کی سہولت سے مستفید ہوں گے۔

عازمین کی امیگریشن اسلام آباد میں مکمل ہونے کے بعد جدہ یا مدینہ ایئرپورٹ پر طویل انتظار کی ضرورت نہیں رہے گی۔ سعودی عرب پہنچنے پر عازمین بغیر کسی قطار کے براہِ راست بسوں تک پہنچیں گے، جب کہ ان کا سامان جدید لاجسٹک نظام کے تحت سیدھا ان کے ہوٹل کے کمروں تک پہنچایا جائے گا۔

سرکاری اسکیم کے تحت مجموعی طور پر ایک لاکھ 19 ہزار عازمین میں اسلام آباد کا حصہ نمایاں ہے، جہاں سے 129 خصوصی پروازیں آپریٹ کی جائیں گی۔ یہ آپریشن مئی کے وسط تک جاری رہے گا، جس میں پی آئی اے اور سعودی ایئر لائنز سمیت دیگر نجی فضائی کمپنیاں حصہ لے رہی ہیں۔

وزارت مذہبی امور نے اسلام آباد سے روانہ ہونے والے عازمین کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی پرواز سے کم از کم چار گھنٹے قبل ایئرپورٹ پہنچیں، تاکہ روٹ ٹو مکہ کے تحت بائیومیٹرک اور امیگریشن کے مراحل بروقت مکمل کیے جا سکیں۔ عازمین کی رہنمائی کے لیے پاک حج موبائل ایپ کو بھی اپ ڈیٹ کر دیا گیا ہے، جہاں سے وہ اپنی پرواز اور رہائش سے متعلق تازہ معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔